طبیبوں کے طبیب نے مِرگی زدہ کا علاج فرمایا
حضرتِ سَیِّدُنایَعْلٰی بِنْ مُرَّہ ثَقَفِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ :ایک سفر میں مجھے نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہمراہی کا شرف ملا ہم ایک گھاٹ پر گزرے تو ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضرِ خدمت ہوئی جسے مرگی کا مرض تھا۔طبیبوں کے طبیب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی ناک کا بانسہ پکڑکر فرمایا:’’ نکل !میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کارسول محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں۔‘‘سفر سے واپسی پر جب اس عورت سے بچے کے متعلق پوچھا تو عرض گزار ہوئی : اُس ذاتِ پاک کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو نبیِّ برحق بنا کر بھیجا! آپ کے بعد ہم نے اس میں کوئی تشویش والی بات نہ پائی ( یعنی ذرہ برابر بھی مرگی کا اثر نہ پایا)۔ (مسند امام احمد، حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی، ۶/۱۷۸، حدیث:۱۷۵۷۶)
یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفا ہے
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے
مِرْگی کی بیماری بغداد سے بھاگ گئی
ایک شخص حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: ’’میں اَصْبَہَان کا رہنے والا ہوں میری ایک بیوی ہے جس کو اکثر مرگی کا دورہ رہتا ہے اور اس پر کسی تعویذ کا اثر نہیں ہوتا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدالقادر جیلانی،قطب ربانی،غوث صمدانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیِ نے فرمایا کہ’’یہ ایک جن ہے جو وَادی سَرَانْدِیْپ کا رہنے والا ہے، اُس کا نام خَانس ہے اور جب تیری بیوی پر مرگی آئے تو اس کے کان میں یہ کہنا کہ اے خانس!تمہارے لئے شیخ عبدالقادر (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) جو کہ بغداد میں رہتے ہیں ان کافرمان ہے کہ’’آج کے بعد پھر نہ آناورنہ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘تو وہ شخص چلا گیا اور دس سال تک غائب رہا پھر وہ آیا اور اس سے دریافت کیا گیا تو اس نے کہا : ’’میں نے شیخ کے حکم کے مطابق کیا پھر اب تک اس پر مرگی کا اثر نہیں ہوا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدالقادر