دماغ کی طرف پہنچنا (2) خبیث جنات کی شرارت ،یہ جنات کبھی تو انسان کی خوبصورتی کی وجہ سے اور کبھی فقط اَذِیت پہنچانے کے لئے انسان پر مُسَلَّط ہوجاتے ہیں۔ (فتح الباری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)
مِرْگی کا علاج
مِرْگی کی پہلی قسم کے بارے میں اَطبّا کا موقف ہے کہ اس کا علاج دواؤں کے ذریعے ممکن ہے ( لہٰذا کسی ماہر تجربہ کار طبیب ،ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا جائے) جبکہ دوسری قسم کی مرگی جو جنات کے اثر سے ہوتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ نیک و پاکیزہ ارواح کو ان کے مقابل لایا جاے تاکہ شریر وخبیث روحوں کے اثرات زائل اورافعال باطل ہوجائیں۔
(فتح الباری،کتاب المرضی ، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)
سُوْرَۃُ الشَّمْس (پ:۳۰) پڑھ کر مرگی والے کے کان میں پھونک مارنا بہت مفید ہے ۔(جنتی زیور ص ۶۰۲)
اذان کے ذریعے مرگی کا علاج
بچّے اور مغموم کے کان میں اور مرگی والے اور غضب ناک اور بد مزاج آدمی یا جانور کے کان میں اور لڑائی کی شدّت اور آتش زدگی کے وقت اور بعد دفن میت اور جنّ کی سرکشی کے وقت اور مسافِر کے پیچھے اور جنگل میں جب راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو اس وقت اَذان مستحب ہے۔ وَبا( بیماری ) کے زمانے میں بھی مستحب ہے۔
( بہار شریعت ، ۱/۴۶۶، حصہ ۳)
بچوں کومِرگی کے مرض سے بچانے کا نُسخہ
بچہ پیدا ہونے کے بعد جو اَذان میں دیر کی جاتی ہے ،اس سے اکثر( یہ مرگی کا )مرض ہوجاتا ہے اور اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا جائے کہ نہلا کر اذان واقامت بچے کے کان میں کہہ دی جائے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّعمر بھر محفوظی رہے گی۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ۴۱۷بحوالہ،شعب الایمان باب فی حقوق الاود، ۶/۳۹۰، حدیث:۸۶۱۹)