Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
379 - 627
 التجا کے ذریعے علاج کروانا دواؤں وغیرہ کے علاج سے بہتر وفائدہ مندہے کیونکہ دعاؤں کی تاثیردواؤں کی تاثیرسے افضل واعلیٰ ہے۔‘‘		     (فتح الباری، کتاب المرضی ، باب فضل من ذہب بصرہ ، ۱۱/۹۹، تحت الحدیث:۵۶۵۳)
 مِرگیEpilepsy)) کیا ہے؟ 
	مِرگیEpilepsy) ) کو عربی میں ’’صَرْعٌ‘‘ کہتے ہیں ا س کا معنی ہے :’’بے ہوش ہوکر گِر پڑنا ‘‘ یہ مرض کبھی اَخلاط کے فساد کے سبب ہوتا ہے اور کبھی جن یا خبیث ہمزاد کے اَثر سے ہوتا ہے، جیساکہ قراٰن میں فرمایا گیا :
یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ  (پ۳، البقرۃ:۲۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان :جسے آسیب نے چھوکر مخبوط بنادیا ہو۔
(نزہۃ القاری ، ۵ / ۴۸۹ )
	عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباری میں فرماتے ہیں ہے :’’مِرگی وہ بیماری ہے جو اعضائے رئیسہ (یعنی قلب ، جگر، دماغ، پھیپھڑے، گردے وغیرہ ) کو اُن کے افعال سے جزوی طور پر روک دیتی ہے ۔ اس بیماری کے واقع ہوتے ہی مریض کے اعضاء مڑنے لگتے ہیں وہ کھڑا نہیں رہ سکتا گر پڑتا ہے اورمنہ سے جھاگ نکلنے لگتے ہیں۔‘‘ 		(فتح الباری، کتاب المرضی ، باب فضل من یصرع من الریح ، ۱۱/۹۸، تحت الحدیث: ۶۵۵۲)
	سرکار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت،مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے جب مرگی کے بارے میں سوال ہوا توآپ نے فرمایا :’’یہ بہت خبیث بَلَا ہے اور اسی کو اُمُّ الصِبْیَان کہتے ہیں اگر بچوں کو ہو۔ ورنہ صَرْع ( یعنی مِرگی)۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ اگر پچیس بَرَس کے اندر اندر ہوگی تو اُمید ہے کہ جاتی رہے اور اگر پچیس بَرَس کے بعد یا پچیس بَرَس والے کو ہوئی تو اَب نہ جائے گی۔ ہاں کسی ولی کی کرامت یا تعویذ سے جاتی رہے تو یہ اَمر آخَر(یعنی دوسری بات) ہے۔ یہ فی الحقیقت ایک شیطان ہے جو انسان کو ستاتا ہے ۔‘‘( ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص ۴۱۷) 
مِرْگی کے اسباب 
	اس بیماری کے دو سبب ہیں (1) آلودہ ہوا کا دماغ کے راستوں میں رُک جانایا پرانے بخار کا اعضاء سے