دیتی تھیں۔(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۵۰، تحت الحدیث: ۱۵۷۷)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : (اس عورت نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں مرگی کے دورے کی وجہ سے گر جاتی ہوں ) مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا، دوپٹہ وغیرہ اتر جاتا ہے ، خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں ستر نہ کھل جائے( فرمایا: اگرصبر کرے گی تو تیرے لئے جنت ہے اور اگر چاہے تو میں تیری صحت یابی کی دعا کروں ) اگرچہ آرام ہونے پر بھی تُو جَنَّتی تو ہوگی،کیونکہ تو مومنہ اور صحابیہ ہے مگر صبر پر جنت کے اعلیٰ مقام کی مُسْتَحِقْ ہوگی ۔( عرض کی: میں صبر کرتی ہوں ، دعا کیجئے میں بے پردہ نہ ہوا کروں )۔ چنانچہ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمادی پھر وہ مِرگی میں کبھی بھی بے ستر نہ ہوئیں ، ربِّ کریمعَزَّوَجَلَّ نے اُن کی حفاظت کے لئے کوئی فرشتہ مقرر فرما دیا ہوگا۔ حدیث پاک سے اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبر میں شامل ہے اس کا نام خودکشی نہیں ، خصوصاً جب پتا لگ جائے کہ یہ مصیبت رَبّ کی طرف سے امتحان ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے میدان کربلا میں دفعیہ کی دعا نہ کی، ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنت ہے اور دعا بھی۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اکثر دعا کی ہے اور صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مرض وفات میں دوا بھی ۔(ملخصاً مراٰۃ المناجیح ،۲/۴۲۷ )
دُعاؤں سے علاج
عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباری میں فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں خاص طور پر مِرگی زَدَہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دُنیوی مصیبتوں پر صبر کرنا جنت کا وارث بنا دیتا ہے۔ یہ بھی بیان ہوا کہ رخصت کی نسبت سختی کو اختیار کرنے میں فضیلت ہے بشرطیکہ وہ جانتا ہو کہ مصیبت کی سختی لمبی ہونے کی صورت میں صبر کرسکے گا اور اس کے التزام سے کمزور نہ ہوگا ۔ بیمار ی میں دوا کا استعمال نہ کرنابھی جائز ہے اور تمام امراض کا علاج صرف دعا ہی کے ذریعے کرانا (اوردوا استعمال نہ کرنا) یہ بھی جائز ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں