Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
377 - 627
حدیث نمبر: 35 			جنتی عورت
	 عَنْ عَطَائَ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ قَالَ،قَالَ لِیْ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا:أَ لَا أُرِیْکَ اِمْرَأۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ؟ فَقُلْتُ بَلٰی! قَالَ:ہٰذِہِ الْمَرْأۃُ السَّوْدَائُ أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّیْ أُصْرَعُ، وَ إِنِّی أَتَکَشَّفُ، فَادْعُ اللہَ تَعَالٰی لِیْ قَالَ:إنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّۃُ،وَإنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللہَ تَعَالٰی أنْ یُعَافِیَکِ، فَقَالَتْ:أَصْبِرُ، فَقَالَتْ إنِّیْ أتَکَشَّفُ فَادْعُ اللہَ أنْ لَا أَتَکَشَّفَ ، فَدَعَا لَہَا. مُتَّفَقٌ عَلَیہِ.			    (بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الریح ، ۴/۶، حدیث:۵۶۵۲)
	ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا عَطَاء بِنْ اَبو رَبَاح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں : مجھے حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :کیا تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟میں نے کہا: کیوں نہیں۔ فرمایا :یہ سیاہ فام عورت نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی :مجھے مِرگی کا دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے میں بے پَردہ ہوجاتی ہوں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے میرے لیے دعا کیجئے ،نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اگر صبر کرسکو تو تمہارے لیے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں تمہار ی صحت کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاکروں ،اس نے کہا: میں صبر کروں گی ،پھر عرض کی: میں بے پردہ ہوجاتی ہوں ، دعا کیجئے میں بے پردہ نہ ہوا کروں ،چنانچہ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لیے دعا فرمادی۔
	علامہ  عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس عورت کو دو باتوں کا اختیار دیا ، یا تو اس بیماری پر صبر کر اور جنت کو پالے یا پھر میں تیرے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کروں کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے، اس عورت نے صبر اختیار کیا اور عرض کی :اللہ عَزَّوَجَلَّ سے میرے لئے دعا فرمائیں کہ دورانِ مِرگی میں بے پردہ نہ ہوا کروں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دعا فرمائی تو اس کے بعد وہ بے پردہ نہیں ہوتی تھی۔ (عمدۃ القاری، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع من الر یح، ۱۴/۶۴۷، تحت الحدیث: ۵۶۵۲)
	 اُس نیک عورت کا نام سُعَیْرَہ یا سُقَیْرَہ  تھا۔ بی بی خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام