Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
375 - 627
 توپہلے اپنے لئے دعا کرکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے دل سے اناروں کی محبت نکال دے ۔یہ سن کر میں بہت حیران ہوا کیونکہ اس نے میرے اس عہد کو جان لیا تھاجو میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ اور میرے درمیان تھا کہ میرا نفس جس چیز کی خواہش کرے گا میں اسے ترک کر دوں گا،لیکن انار مجھے بہت پسند تھے، باوجود کوشش میں انہیں ترک نہ کرسکا تھا ۔ (اس نابینا بزرگ نے نظر ولایت سے ان کے دل کا حال جان لیا تھا ) ۔  		(عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃ عشرۃ بعد المائۃ، ص۱۳۱)
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو 		ید ِبیضاء لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
آنکھوں سے پیاری رضائے الٰہی
	 اپنے زمانے کے مشہور ولی حضرتِ سَیِّدُنا یونس بن یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا عالَم شباب تھا، اکثروقت مسجد میں ہی گزراتے تھے ایک مرتبہ  مسجد سے گھر آتے ہوئے اچانک ایک عورت پر نظر پڑی اور دل اس طرف مائل ہوا لیکن پھرفوراََہی شرمندہ ہو کر تائب ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں یوں دعا کی: ’’اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! آنکھیں اگرچہ بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں یہ میری ہلاکت کا باعث نہ بن جائیں اور میں ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں ،میرے مالک !تو میری بینائی سلب کرلے۔‘‘ چنانچہ، ان کی دعاقبول ہوئی اور وہ نابینا ہو گئے ۔  (عیون الحکایات، الحکایۃ السابعۃ والاربعون بعد المائۃ، ص۱۶۵)
	سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے اسلاف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَ جْمَعِیْن کیسے عظیم تھے کہ گناہوں سے حفاظت کے لئے نابینا ہونا بھی منظور کر لیتے ۔اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ!ا ن بزرگوں کے صَدقے ہمیں بھی نعمتو ں کی صحیح قَدرکرنے کی تو فیق عطا فرما ،بُرے اَعمال کی طرف رغبت دلانے والی چیز وں سے بیزار ی عطا فرما، بد نگاہی جیسی مُہْلِک (ہلاک کرنے والی) بیماری سے ہماری حفاظت فرما ۔ اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نیچی نیچی نظروں کے صَدقے ہماری بے باکیوں اور غفلتو ں سے در گزر فرما اور ہماری دائمی مغفرت فرما۔
یاالٰہی رنگ لائیں جب مری بے باکیاں 		 اُن کی نیچی نیچی نظرو ں کی حیا کا ساتھ ہو