تعریف نہیں کرسکتا۔‘‘(قرۃالعیون لابی اللیث سمرقندی، الباب السادس فی عقوب النائحۃ ملحق بروض الفائق، ص۳۹۵)
صبر نہ کرنا بھی مصیبت ہے
حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مُبَارَک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :’’مصیبت ایک ہوتی ہے لیکن جب وہ کسی پر پہنچے اور وہ صبر نہ کرے تو دو مصیبتیں بن جاتی ہیں ، ایک تو وہی مصیبت اور دوسری مصیبت صبر کے اجر کا ضائع ہونا اور یہ مصیبت پہلی سے بڑھ کر ہے ۔(درۃ الناصحین، المجلس الخمسون فی بیان صبر ایوب علیہ السلام، ص۱۹۳)
نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ صبر تین ہیں (1)مصیبت پر صبر(2) طاعت (نیکیوں )پر صبر(3)گناہوں سے صبر۔توجس شخص نے مصیبت پر صبر کیا اس کے لئے تین سو درجات ہیں ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔جس نے طاعت پر صبر کیا اس کے لئے چھ سو دَرَجات لکھے جاتے ہیں ،ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک زمین سے دوسری زمین تک کافاصلہ ہے ۔اورجس نے مصیبت پر صبر کیا اس کے لئے نوسو درجات ہیں ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان اس سے دوگنافاصلہ ہے جتنا زمین سے لیکر عرش تک کافاصلہ ہے ۔‘‘
(کنز العمال، الصبر علی البلایا والامراض والمصائب والشدائد، ۲/۱۱۱، حدیث: ۶۵۱۲)
نابینا بزرگ کی نظر وِلایَت
حضرتِ سَیِّدُنا یحییٰ بن مَعاذ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَھَّابسے منقول ہے کہ: ایک مرتبہ میں نے ایک ویران جنگل میں بانس کی جھونپڑی کے قریب ایک ایسے نابینا بوڑھے شخص کو دیکھا جو کوڑھ کے مرض میں مبتلاتھا ،کیڑے اس کے جسم کو کھارہے تھے۔ مجھے اس پربہت ترس آیا میں نے کہا : اے بزرگ!اگر آپ چاہیں تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّسے آپ کی صحت یا بی کی دعا کروں ؟اس نے کہا :اے یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ! میں اس حال میں بھی اپنے ربِّ کریم سے راضی ہوں اور سن ! کبھی بھی اَولیائے عِظام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام سے ٹکر نہ لینا ،اوراگر تجھے اپنی دعا کی قبولیت پر اتنا ہی نازہے