نَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ بِالْبلَاَ کمَایَفْرَحُ اَہْلُ الدُّنیا بِالنِّعَمِ۔یعنی ’’ ہم بلاؤں اور مصیبتوں کے ملنے پر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے اہلِ دنیا دُنیوی نعمتیں ہاتھ آنے پر خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یاد رہے! مصیبت بسا اوقات مومِن کے حق میں رَحمت ہوا کرتی ہے اور صَبر کر کے عظیم اَجر کمانے اور بے حساب جنَّت میں جانے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ چُنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباّس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:’’ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفِرت فرما دے۔‘‘ ( مجمع الزوائد،کتاب الزہد،باب فیمن صبر علی العیش الشدید۔۔۔الخ، ۱۰/۴۵۰،حدیث: ۱۷۸۷۲)ایک روایت میں ہے کہ ’’مسلمان کو مرض ،پریشانی، رنج ،اذیَّت اور غم میں سے جو بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چُبھتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس کے گناہوں کا کفّارہ بنا دیتا ہے۔‘‘ (بخاری، کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ۴/۳، حدیث:۵۶۴۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’جس نے اپنے ایک بچے کے مرجانے پر صبر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کیلئے اس کے نامۂ اعمال میں اُحد پہاڑ کے وزن کے برابر اَجر لکھ دیتاہے اورجس نے دو بچوں کے مرجانے پر صبر کیاتواللہعَزَّوَجَلَّ(قیامت میں )اسے ایسانور عطافرمائے گاجو اُس کے آگے آگے ہوگا اور محشر کی ظلمت وتاریکی میں اس کے لئے روشنی کریگا اورجس نے اپنے تین بچوں کے مرجانے پر صبر کیا تو جہنم کو عبور کرتے وقت اِس کے لئے جہنم کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے اورجس نے اپنی ایک آنکھ ضائع ہونے پر صبر کیا تووہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّکادیدار سب سے پہلے کریگااور اللہ عَزَّوَجَلَّنابینا ؤں کو خلعتِ خاص سے نوازے گااور تمام مصیبت زدوں سے پہلے ان کے لئے جھنڈے لہرائے جائیں گے اور جس نے اپنی دونوں آنکھوں کے ضائع ہونے پر صبرکیاہوگا اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے عرش کے نیچے گھر بنائے گااوراس کے لئے ایسی بادشاہت ہوگی جس کی کوئی