Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
372 - 627
ان اَعضاء سے مجھے فائدہ بخشااور جب چاہا لے لیا اور میری اُمّید صِرف اپنی ذات میں باقی رکھی ، اے میرے پیدا کرنے والے! میراتَو مقصود بس تُوہی تُو ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: اے جبرئیل ! میں نے آپ کونَمازی روزہ دار شخص دکھانے کاکہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا، اِس مصیبت میں مُبتَلا ہونے سے قَبل یہ اَیسا ہی تھا، اب مجھے یہ حُکم ملا ہے کہ اس کی آنکھیں بھی لے لوں۔ چُنانچِہ، حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اشارہ کیا اوراُس کی آنکھیں نکل پڑیں ! مگر عابِد نے زَبان سے وُہی بات کہی: ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! جب تک تُو نے چاہا اِن آنکھوں سے مجھے فائدہ بخشا اور جب چاہا انھیں واپَس لے لیا۔ اے خالِق عَزَّوَجَلَّ! میری اُمّید گاہ صِرف اپنی ذات کو رکھا ، میرا تومقصود بس تُوہی تُوہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنیعابِدسے فرمایا:آؤ ہم تم باہَم ملکر دُعا کریں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   تم کو آنکھیں اور ہاتھ پاؤں پھر لوٹا دے اور تم پہلے ہی کی طرح عبادت کرنے لگو۔ عابِد نے کہا: ہرگز نہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین  عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : آخِر کیوں نہیں ؟ عابِد نے جواب دیا:’’ جب میرے ربّعَزَّوَجَلَّ کی رِضا اِسی میں ہے تو مجھے صِحّت نہیں چاہیے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یونُسعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا،واقِعی میں نے کسی اور کو اِس سے بڑھ کر عابِد نہیں دیکھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے کہا، یہ وہ راستہ ہے کہ رِضا ئے الٰہی   تک رسائی کیلئے اِس سے بہتر کوئی راہ نہیں۔ ( رَوْضُ الرَّیاحین، الحکایۃ السادسۃ والثلاثون بعد الثلاثمائۃ، ص۲۸۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
 سُبْحٰنَ اللہ!صابِر ہو تو اَیسا! آخِر کون سی مصیبت ایسی تھی جو اُن بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وُجُود میں نہ تھی حتّٰی کہ آنکھوں کے چَراغ بھی بجھا دیئے گئے مگر اُن کے صبرو اِستِقِلال میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا، وہ ’’ راضی بَرِضائے الٰہی کی اُس عظیم منزِل پر فائز تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے شفاطَلَب کرنے کے لئے بھی تیّار نہیں تھے کہ جب  اللہ عَزَّوَجَلَّنے بیمار کرنا منظور فرمایا ہے تو تندُرُستی نہیں چاہیے۔‘‘ سُبْحٰنَ اللہ! یہ انھیں کاحِصّہ تھا۔ایسے ہی  اَہْلُ اللہ کا مَقُولہ ہے،نَحْنُ