میں اس کا عوض ہو سکتا ہے تاکہ بروز قیامت وہ گناہوں سے پاک ہو کر اپنے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّسے ملاقات کرے ، یا پھر اس مصیبت کے ذریعے وہ اَجر کے اس درجے تک پہنچ جاتا ہے کہ جس تک وہ اپنے اَعمال کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ دیگر تما م مصیبتوں کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَنبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام پر سب سے زیادہ مصیبتیں آتی ہیں پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر انکے بعد جوبہتر ہیں ، بندے کواسکی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلائ، ۴/۳۶۹، حدیث:۴۰۲۳) ایک حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ دنیا میں عافیت سے رہنے والے لوگ جب مصیبت زدوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا جانے والا ثواب دیکھیں گے توتمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں انکے جسم قینچیوں سے کاٹ دئیے جاتے ۔(معجم کبیر، ۱۲/۱۴۱، حدیث:۱۲۸۲۹) پس جو آنکھیں چلی جانے یا کسی اور عضوکے ضائع ہو جانے کی مصیبت میں مبتلا کیاگیا تو اسے چاہیے کہ اس مصیبت کو صبر وشکراور ثواب کی امید کے ساتھ قبول کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے لئے جانے والے امتحان پر راضی رہے کیونکہ اس مصیبت کے بدلے اسے بہت اچھا اور بہت عظیم بدلہ ملے گا اور وہ جنت ہے ۔ (بخاری لابن بطال، کتاب المرضی، باب فضل من ذہب بصرہ، ۹/۳۷۷)
رضائے الٰہی کے طلب گار بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتے بلکہ وہ مصائب و آلام پر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے عام لوگ نعمتیں ملنے پر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ ،
عجیب و غریب مریض
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا یونُسعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ اَمینعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا:میں رُوئے زمین کے سب سے بڑے عابِد( یعنی عبادت گزار) کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو ایک ایسے شخص کے پاس لے گئے جس کے ہاتھ پاؤں جُذام کی وجہ سے گل سڑ کر جُدا ہو چکے تھے اور وہ زَبان سے کہہ رہا تھا: ’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تُو نے جب تک چاہا