سے ان دونوں سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی۔ اگرچہ اَصَحّ (زیادہ صحیح)یہ ہے کہ قوتِ سماعت ،قوتِ بصارت سے افضل ہے کیونکہ اُخرَوی اِعتبار سے قوتِ سماعت کے فوائد قوت بصارت پر غالب ہیں وہ اس لئے کہ کان ہی قراٰن و سنت ودیگر علوم کے اِدرَاک (حاصل کرنے) کا محل ہیں۔ ہاں دنیوی اعتبار سے آنکھوں کے فوائد غالب ہیں۔بعض روایات میں ایک آنکھ کے ضائع ہونے پر بھی جنت کی بشارت ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فَضل و کرم اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ۔تو جو شخص اس آزمائش میں مبتلا ہوجائے اسے چاہیے کہ وہ ان اَنبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام واَولیائے عِظام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کے حالات میں غور وفکر کرے کہ جب اُن پریہ آزمائش آئی تو وہ حضراتِ قدسیہ صبر و رَضا کے پیکر بنے رہے بلکہ وہ توایسی مصیبتوں کو نعمت شمارکیا کرتے تھے ۔حِبْرُ الْاُمَّۃ، (اُمَّت کے عالِم) ترجمانِ قراٰن، حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب نابینا ہو گئے تو یہ شعر پڑھا کرتے تھے :
اِنْ یُّذْھِبِ اﷲُ مِنْ عَیْنِیْ نُوْرَ ھُمَا
فَفِیْ لِسَانیْ وَقَلْبِی لِلْھُدٰی نُوْرٌ
ترجمہ : اگراللہ عَزَّوَجَلَّ میری آنکھوں کا نور لے گیا تو کیا ہوا؟ میری زبان اور دل میں تو ہدایت کا نور ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۲۸، تحت الحدیث: ۱۵۴۹)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
حضرتِ سیدنااَبُو الْحَسَن علی بن خَلف اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :یہ حدیث مبارکہ اس بات پر دلیل ہے کہ مصیبت پر صبر کر نے کا ثواب جنت ہے ، دنیا میں کسی مسلمان کا نابینا ہو جانا اللہ عَزَّوَجَلَّکی اس پر ناراضی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّبھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ۔یا تو اُس سے کسی ایسی بُری چیز کو دور کردیتا ہے جس کا سبب اس کی آنکھیں بنتیں اور آخرت میں ایسا عذاب ملتا کہ اس پر صبر نہ ہو سکتا یا اس کے ایسے سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے کہ جسم کے کسی بہت ہی اہم حصے کا تلف ہی دنیا