Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
369 - 627
حدیث نمبر:34  		بینائی ختم ہونے پرصبر
	عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ إِنَّ اللہَ قَالَ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِیْ بِحَبِیْبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْہُمَا الْجَنَّۃَ یُرِیْدُ عَیْنَیْہِ
(بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۴/۶ حدیث: ۵۶۵۳)
	 ترجمہ :’’ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں :میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے :جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر کرے تو میں اس کے عوض اسے جنت دونگا ۔ دومحبوب چیزوں سے مراد اس کی دونوں آنکھیں ہیں۔
	حدیث میں فرمایا ’’حَبِیْبَتَیْہ‘‘ یعنی دو محبوب چیزیں دوسری حدیث میں اس کی وضاحت بھی فرمائی یعنی دونوں  آنکھیں ، اس لئے کہ انسان کے بدن میں سب سے اہم اور محبوب عضو آنکھیں ہیں اور یہ بات کسی پر مَخْفِی (ڈھکی چھپی) نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جب اس کی آنکھیں چلی جائیں پھر وہ صبر کرے ۔ ترمذی میں یہ الفاظ زائد ہیں  ’’وَاحْتَسَبَ‘‘ مطلب یہ ہے کہ جس کی آنکھوں کی روشنی چلی جائے اور وہ صبر کرے اُس ثواب کی نیت کرتے ہوئے جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے صابرین سے وعدہ فرمایا ہے تواس کو ان (آنکھوں ) کے عوض جنت ملے گی، لیکن اس کا صبر کرنا اس نیت سے خالی نہ ہو کیونکہ اَعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اور ظاہری طور پر صبر سے مراد یہ ہے کہ نہ وہ شکایت کرے، نہ پریشان ہو اور نہ ہی ناراضی کا اظہار کرے۔(عمدۃ القاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ، ۱۴/۶۴۸، تحت الحدیث: ۵۶۵۳)
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مِرْقاۃُ الْمفا تیح میں اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’یعنی جو نابینا ہوجائے (تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت عطافرمائے گا)۔بعض روایات میں ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے پر بھی یہ فضیلت وارد ہوئی ہے ۔ آنکھوں کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا کہ انسان کو اپنے حواس میں