نہ خبرگیراں ، پھر جو مریں گے ان کی تجہیز وتکفین کون کرے گا، جس طرح خود آج کل ہمارے شہر اور گردونواح کے ہنود میں مشہور ہورہاہے کہ اولاد کو ماں باپ، ماں باپ کو اولاد نے چھوڑ کر اپناراستہ لیا بڑوں بڑوں کی لاشیں مزدوروں نے ٹھیلے پر ڈال کر جہنم پہنچائیں ، اگر شرعِ مُطہّر مسلمانوں کو بھی بھاگنے کاحکم دیتی تومَعَاذَاﷲیہی بے بسی بیکسی ان کے مریضوں مَیِّتوں کو بھی گھیرتی جسے شرع قطعاً حرام فرماتی ہے۔اِرْشَادُ السَّارِی شرح صحیح البخاری میں ہے (لَا تُخْرِجُوْا فِرَارًا مِّنْہُ) فَاِنَّہُ فِرَارٌمِّنَ الْقَدْرِ وَلِئَلَّا تَضِیْعُ الْمَرْضٰی لِعَدْمِ مَنْ یَّتَعَھَّدُھُمْ وَالْمَوْتٰی مِمَّنْ یُّجَھِّزُھُمْ۔ ترجمہ(مقام طاعون سے بھاگ کرکہیں باہر نہ جاؤ کیونکہ یہ تقدیرِالٰہی سے بھاگنے کے مُترادِف ہے اور تاکہ بیمار ضائع نہ ہونے پائیں اس لئے کہ اس افراتفری کے باعث مریضوں کی نگہبانی اور حفاظت کے لئے کوئی نہیں ہوگا اور مرنے والوں کی تجہیزوتکفین اور تدفین کے لئے بھی کوئی نہ ہوگا)۔(فتاوی رضویہ ، ۲۴/۳۰۳-۳۰۴)
مدنی گلدستہ
’’ شہید ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیث مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)طاعون ایک عذاب تھا لیکن اِس اُمت کے لئے اِسے رحمت بنا دیا گیا ۔
(2) جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ بچانا چاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔تقدیر سے کوئی نہیں بھاگ سکتا جو انسان کے مُقَدَّر میں لکھ دیا گیا وہ اسے ضرور پہنچے گا ۔
(3)انبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کا گستاخ دنیا وآخرت میں ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔
(4) جہاں طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگنا حرام اور اس علاقے میں جانا بھی منع ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا و آخرت میں عافیت عطا فرمائے ، جو مصائب ہمارے مُقَدَّر میں ہیں ان پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم