Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
367 - 627
شکست ہوجائے گی ۔تم لوگ ہزاروں خوبصورت لڑکیوں کو بہترین لباس و زیورات پہنا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیج دو۔ اگر ان کا ایک آد می بھی بدکاری میں مبتلا ہوگیا تو پورے لشکر کو شکست ہوجائے گی۔ چنانچہ، بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کی قوم نے اس کے بتائے ہوئے مکر کا جال بچھایا، بہت سی خوبصورت دوشیزاؤں کو بناؤ سنگھار کے ساتھ بنی اسرائیل کے لشکرمیں بھیج دیا۔ بنی اسرائیل کا ایک رئیس ایک لڑکی کے فتنے میں مبتلا ہوگیا اس نے لڑکی کو اپنے ساتھ لیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آکر پوچھا : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی! کیا یہ لڑکی میرے لئے حلال ہے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: خبردار !یہ تیرے لئے حرام ہے۔ فوراً اس کو اپنے سے الگ کردے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر۔ مگر اس رئیس پر شہوت کاغلبہ تھا اس نے اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی بات نہ مانی اور اس لڑکی سے بد کاری میں مبتلا ہوگیا ۔ اس گناہ کی نحوست کا یہ اثر ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں اچانک طاعون کی وَبا پھیل گئی اور گھنٹے بھر میں ستر ہزار آدمی مر گئے ۔ سارا لشکرمنتشر ہو کر ناکام واپس چلا آیا۔ بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء بارگاہِ الٰہی سے دُھتکاردیا گیا۔ آخری دم تک اس کی زبان اس کے سینے پر لٹکتی رہی اور وہ بے ایمان ہو کر مر ا۔(صاوی، پ۹،  الاعراف، تحت الایۃ:۱۷۵،۲/۷۲۷)
 دین کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے 
	 دینِ اسلام ایسا پاکیزہ و ستھرا دین ہے کہ اس کا ہر ہر حکم حکمت بھرا ہے ،اسلام کے احکامات کو ماننے والا ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات بعض احکام بظاہر بہت گِراں محسوس ہوتے ہیں لیکن ان میں دین ودنیا کی بے شمار بھلائیاں پِنہاں ہوتی ہیں۔ اسی حکم کو لے لیجئے کہ طاعون زَدَہ علاقے سے بھاگنا ناجائز و گناہ ہے، بظاہر یہ حکم نَفس پر بہت گراں ہے لیکن اس میں بے شمار دِینی ودُنیوی فوائدو حکمتیں ہیں۔ چنانچہ، اس حکم کی حکمت بیان کرتے ہوئے سرکارِاعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، مولانا شاہ اِمَام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ  میں فرماتے ہیں :’’جن حکمتوں کی بناپر حکیم کریم، رء وف رحیم عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم نے طاعون سے فرار (بھاگنا) حرام فرمایا ان میں ایک حکمت یہ ہے کہ اگرتندرست بھاگ جائیں گے بیمار ضائع رہ جائیں گے ان کا کوئی تیماردار ہوگا