تیسرا فائدہ: اللہ والوں کی پھونک یا آواز صورِ اسرافیل کا اثر رکھتی ہے کہ حضرت حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلَام کی پکار سے نَفْخِ صُوْر (صورِ اسرافیل)کی طرح اتنی بڑی جماعت زندہ ہوگئی ۔
چوتھا فائدہ: کوئی بھی تدبیر سے تقدیر نہیں بدل سکتا اور نہ آنے والی موت کو ٹال سکتا ہے۔ لہٰذا اے مسلمانو! جہاد نہ چھوڑو جب اپنے وقت پر موت آئے گی تو بہتر ہے کہ راہِ خدا میں آئے۔
پانچواں فائدہ: طاعون سے بھاگنا منع ہے ، دیکھو یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) طاعون سے بھاگے تھے عتابِ الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ ‘‘(تفسیرِ نعیمی پ ۲، البقرہ، تحت الایۃ: ۲۴۳،۲/۴۸۳،مکتبہ اسلامیہ لاہور)
انسان کو اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ، بُرے لوگوں کی صُحْبَت ، بُرے مشوروں اور تمام گناہوں سے بچنا چاہیے ۔بسا اوقات دنیا میں بھی گناہوں کی سزا ملتی ہے ،جس میں لوگوں کے لئے عبرت کا سامان ہوتا ہے ۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص بدکاری کا مرتکب ہو ا تو پوری جماعت کو طاعون میں مبتلا کر کے ہلاک کیا گیا۔چنانچہ ،
گناہوں کی وجہ سے طاعون
منقول ہے کہ بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء اپنے دور کا بہت بڑا عالم ،عابد و زاہد اوراسمِ اعظم جاننے والا تھا۔ اس کی روحانیت کا یہ عالَم تھا کہ زمین سے عرشِ اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ بہت ہی مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات تھا( یعنی اس کی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں ) اس کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی، اس کی درسگاہ میں طالب علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں۔جب حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ’’قَوْمِ جَبَّارِیْن‘‘ سے جہاد کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوئے تو بَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَائکی قوم اس کے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا : موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام)بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لے کر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ وہ ہماری زمینیں اپنی قوم بنی اسرائیل کو دینا چاہتے ہیں۔ تم اُن کے لئے ا یسی بددعا کر و کہ وہ شکست کھا کر واپس چلے جائیں ، تم چونکہ مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہو( تمہاری ہر دعا مقبول ہے) اس لئے یہ دعا بھی ضرورقبول ہوگی۔ یہ سن کربَلْعَمْ بِنْ بَاعُوْرَاء کانپ اٹھا۔ اور کہنے لگا :