بَنُورِ نَبُوَّت عالَم کے سارے اگلے پچھلے واقعات ملاحظہ فرمائے کیونکہ اتنے پرانے واقعہ کو’’ اَلَمْ تَرَ‘‘ اِسْتِفْہَامِ اِنْکارِیسے بیان فرمایا گیا کہ کیا آپ نے نہ دیکھا تھا یعنی ضرور دیکھا تھا۔ اِلٰی سے معلوم ہوتا ہے کہ رؤیت بمعنی نظر چشم ہے۔ ایسے ہی حضور نے آئندہ واقعات کو دیکھ کر خبر دی جن کے بارے میں بکثرت روایات موجود ہیں۔
اَ لَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْن خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ سے اشارۃً دوباتیں معلوم ہوئیں (1) طاعون کے زمانہ میں گھر چھوڑدینا منع ہے خواہ شہر بھی چھوڑدیا جائے یا صرف محلہ تبدیل کیا جائے جب کہ وَبا سے بھاگنا مقصود ہو۔ (2) حضور کی نظر اس عالَم میں رہ کر ہر چیز کو دیکھتی بھی تھی اور پہچانتی بھی تھی ہماری آنکھیں بیک وقت بڑے مجمع کو دیکھ کر ہر ایک کو پہچان نہیں سکتیں ہماری ناک بہت سی خوشبوئیں صحیح محسوس نہیں کرسکتی، ہمارے کان بیک وقت بہت سی آوازیں سن نہیں سکتے مگر حضور کے حواس ان کمزوریوں سے محفوظ۔حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آج لاکھوں کا سلام بیک وقت سن کر سب کو علیحدہ جواب دیتے ہیں قیامت میں بیک وقت ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لیں گے پھر ہر امتی کے ہر حال کو جانیں گے ورنہ شفاعت ناممکن ہے ۔حضور نعمتِ اِلٰہیہ کے قاسم ہیں اور قاسم ہر حصہ اور ہر حصہ دار کو پہچانتا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا تھا :
وَ أُ نَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ (پ۳، اٰل عمران:۴۹) ترجمۂ کنز الایمان :اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔
معلوم ہوا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام ہر دانہ اور اس کے کھانے والے سے خبر دار ہیں۔جب حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اتنا علم ہے تو پھر نبیوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علمِ غیب کا عالَم کیا ہوگا؟
دوسرا فائدہ : انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَامکی بارگاہ ِالٰہی میں وہ عزت ہے کہ اگر وہ کسی بات پر بطریقہ ناز ضد کر جائیں یا قسم کھالیں تو ربّ کریمعَزَّوَجَلَّ پوری فرمادیتا ہے ۔ دیکھو حضرت حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلَام کی عَرض معروض پر ان سب کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔