میں رہنے لگا۔ (روح البیان، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ:۲۴۴، ۱/۳۷۸)
طاعون سے بھاگنے والی جماعت کا انجام
بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے طاعون کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑا تو وہ سب کے سب مر گئے ۔ قراٰنِ کریم میں ارشادِخدا وندی ہے :
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَہُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاہُمْ اِنَّ اللہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْن (پ۲، البقرۃ:۲۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان :اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیابیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔
تفسیرِ نعیمی میں اس آیت کے تحت جو واقعہ بیان کیا گیاہے اس کاخلاصہ کچھ یو ں ہے : ایک شہر کے لوگ طاعون کے ڈر سے کسی پہاڑی علاقے میں چلے گئے۔ وہاں ایک فرشتے نے بحکمِ الٰہی چیخ کر کہا ’’سب مرجاؤ‘‘ چنانچہ سب ہلاک ہوگئے۔ اُن کی لاشیں ایسے ہی پڑی رہیں یہاں تک کہ گَل سَڑگئیں۔اتفاقاً حضرتِ سیِّدُنا حِزْقِیْل عَلَیْہِ السَّلَام وہاں سے گزرے تو بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: الٰہی! اِنہیں زندہ فرمادے! ارشاد ہوا: آپ انہیں پکارئیے! چنانچہ، آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا: اے ہڈیو! اللہ کے حکم سے جمع ہوجاؤ! تمام ہڈیاں جمع ہوگئیں ، پھرفرمایا: اے گلے ہوئے جسمو!میرے پرورد گار کے حکم سے کھڑے ہو جاؤ! تووہ سارے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے: سُبْحَانَکَ اللہُمَّ رَ بَّنَا وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ۔پھر یہ لوگ کئی سال زندہ رہے۔ مگر ان کے چہرے مُردوں کے سے تھے ۔ان سے اولاد بھی پیدا ہوئی ۔ اس آیت میں انہی لوگوں کا ذکر ہے ۔(تفسیرِ نعیمی پ ۲، البقرہ، تحت الایۃ: ۲۴۳،۲/۴۸۲،مکتبہ اسلامیہ لاہور)
شانِ انبیاء
اس آیت سے چند فائدے حاصل ہوئے ۔پہلا فائدہ: حضور سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بَنُورِ