ہے تو اس زمین میں نہ جاؤ اور اگر تمہاری زمین میں وَبا پھیلی ہے تو اس زمین سے راہِ فرار اختیار نہ کرو۔ (بخاری، کتاب الطب، باب ما یذکر فی الطاعون،۴/۲۹، حدیث:۵۷۳۰) لہٰذا جب کسی زمین میں طاعون کی وَبا پھیلی ہو تو وہاں نہیں جا سکتے کیونکہ اس جگہ جانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور اگر ہمارے علاقے میں یہ وَبا پھیل جائے تو وہاں سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ ہمارا بھاگنا ہمیں تقدیر کے لکھے سے بچا نہیں سکتا ۔
عقل مندغلام
تفسیر روح البیان میں ہے :’’جب ملک شام میں طاعون کی وَبا پھیلی تو بَنُوْ اُمَیَّہ کا بادشاہ عَبْدُالْمَلِک بِنْ مَرْوَان موت کے ڈر سے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے شہر سے بھاگ نکلا اور ساتھ میں اپنے خاص غلام اور کچھ فوج بھی لے لی وہ طاعون سے اس قدر خائف اور ہراساں تھا کہ زمین پر پاؤں نہیں رکھتا تھا بلکہ گھوڑے کی پشت پر ہی سوتا۔ دورانِ سفر ایک رات اُسے نیند نہ آئی تو اس نے اپنے غلام سے کہا کہ تم مجھے کوئی قصہ سناؤ۔ عقلمند غلام نے بادشاہ کو نصیحت کرنے کا موقع پا کر یہ قصہ سنایا کہ ایک لومڑی اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک شیر کی خدمت گزاری کیا کرتی تھی تو کوئی دَرِندہ شیر کی ہیبت کی وجہ سے لومڑی کی طرف دیکھ نہیں سکتا تھا۔ لومڑی نہایت ہی بے خوفی اور اطمینان سے شیر کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی۔ اچانک ایک دن ایک عقاب لومڑی پر جھپٹا تو لومڑی بھاگ کر شیر کے پاس چلی گئی۔ شیر نے اسے اپنی پیٹھ پر بٹھالیا۔ عقاب دوبارہ جھپٹا اور لومڑی کو شیر کی پیٹھ پر سے اپنے پنجوں میں دبا کر اڑ گیا۔ لومڑی چلّا چلّا کر شیر سے فریاد کرنے لگی تو شیر نے کہا: میں زمین پر رہنے والے درندوں سے توتیری حفاظت کرسکتا ہوں لیکن آسمان کی طرف سے حملہ کرنے والوں سے میں تجھے نہیں بچا سکتا۔ یہ قصہ سن کر عبدالملک بادشاہ کو بڑی عبرت حاصل ہوئی اور اس کی سمجھ میں آگیا کہ میری فوج ان دشمنوں سے تو میری حفاظت کرسکتی ہے جو زمین پر رہتے ہیں مگر جو بلائیں اور وبائیں آسمان سے مجھ پر حملہ آور ہوں ، ان سے مجھ کو نہ میری بادشاہی بچا سکتی ہے نہ میرا خزانہ اور نہ میرا لشکر میری حفاظت کرسکتا ہے۔ آسمانی بلاؤں سے بچانے والا تو بجز خدا کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہ سوچ کر عَبْدُالْمَلِک بادشاہ کے دل سے طاعون کا خوف جاتا رہا اور وہ رضائے الٰہی پر راضی رہ کر سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے شاہی محل