اسی مناسبت سے ایک ایمان افروز حکایت بیان کی جاتی ہے :
جانور نے انسانی بچہ کی پرورش کی
حضرتِ سَیِّدُنامَعْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کا بیان ہے:اَبُوبُغَیْل نامی ایک شخص نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا : ایک مرتبہ طاعون کے مرض نے لاشوں کے انبار لگادیئے ،ہم مختلف قبیلوں میں جاکر مُردوں کو دفن کرتے۔ لیکن جب پور ے پورے گاؤں ہلاک ہونے کی وجہ سے لاشوں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور ہم انہیں دفنانے سے عاجز آگئے تو ہم یوں کرتے کہ ایک گھر کے افراد کی لاشیں گھر کے ایک کمرے میں جمع کرکے دروازہ اورکھڑکیاں وغیرہ بند کردیتے۔ پھر طاعون کا مرض ختم ہو نے کے بعد جب ہم ایک گھرمیں داخل ہوئے تو وہاں ایک صحت مند، خوبصورت بچہ موجود تھا ۔ نہ جانے وہ بچہ کہاں سے آیا تھا؟اور اب تک بغیر غذا کے کیسے زندہ تھا ؟ ہم ابھی اسی شش وپنج میں تھے کہ اچانک ایک مادہ درندہ دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصے سے اندر داخل ہوا اور بچے کے قریب آکر بیٹھ گیا۔بچہ اس کی طرف گیا اس کا دودھ پینے لگا۔ خالقِ کائنات ورَزَّاقِ مخلوقات جَلَّ جَلَالُہ کی اس شانِ رزّاقی کو دیکھ کرہم بہت حیران ہوئے کہ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کو رزق کے اسباب مہیّا کرتاہے ۔ اس نے ایک بچے کی خوراک کاانتظام کس طرح کیا۔ طاعون کی بیماری سے اس گھر کے تمام افراد عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے، انہیں افراد میں ایک حاملہ عورت بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا پھر اس بچے کی ولادت ہوئی اور اس کے رزق کا انتظام ایک درندے کے ذریعے کیا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا مَعْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کہتے ہیں کہ اس بچے کی خوب پرورش ہوئی اور وہ جو ان ہو گیا پھر میں نے دیکھا کہ وہ بصرہ کی مسجد میں اپنی داڑھی سنواررہا تھا (یعنی وہ جوان ہوگیا تھا)۔ (عیون الحکایات ، ص۳۹۴)
طاعون والے علاقے میں نہ جاؤ !
حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ الرَّحْمٰن بِنْ عَوْف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون کی وَبا پھیلی