Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
360 - 627
کفار پر عذاب ہے جو کافر اس میں مرے گا وہ عذاب کی موت مرے گااورصبر کرنے والا مسلمان خواہ طاعون میں فوت ہوجائے یا بعد میں جب بھی مرے گا،درجۂ شہادت پائے گا۔(ملخصاًمراٰۃ المناجیح ، ۲/۴۱۴) 
اُمّتِ محمدیہ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خاص کرم
	حضرت علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تفہیم البخاری میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس اُمَّتِ مُحَمَّدِیَہ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت مہربانی ہے کیونکہ جو بیماری دوسری امتوں کے لئے عذاب مقرر کی گئی ہے وہ اس امت کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے۔ طاعون بنی اسرائیل کے لئے عذاب اور اِس امت کے لئے رحمت ہے ۔‘‘(تفہیم البخار ی، ۵/۳۵۵) دوسرے مقام پر فرمایا :’’ اس اُمّت کے مومنوں کے لئے طاعون کو رحمت کیا ہے اس کا رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ یہ شہید کے ثواب کو مُتَضَمِّن( شامل) ہے اگر چہ یہ صورت کے اعتبار سے سخت تکلیف دہ ہے ، لیکن یہ کافروں کے لئے شدید عذاب ہے۔‘‘ (تفہیم ا لبخار ی،  ۸/۸۰۰)
طاعون والے علاقے میں صبر و استقلال سے ٹھہرنا
	میر  ے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ اِمَام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں :’’ا پنے شہرمیں تین وصفوں کے ساتھ ٹھہرے :اول صبرواستقلال، دوم تَسْلِیْم وتَفْوِیْض ورَضَا بِالْقَضَاء پرطلبِ ثواب (یعنی ثواب کی نیت سے ربّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس بستی میں روک رکھے)، سوم یہ سچا اعتقاد کہ بے تقدیرِ الٰہی (اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے بغیر) کوئی بَلانہیں پہنچ سکتی۔ ‘‘(فتاوی رضویہ ، ۲۴/  ۳۰۲)
	 معلوم ہوا کہ انسان تقدیر سے نہیں بھاگ سکتا ۔ جو نفع ونقصان اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا وہ اسے ضرور پہنچے گا۔موت اپنے وقت پر ضرورآئے گی چاہے گھر میں ہوں یا مضبوط ومحفوظ قلعوں میں۔ ہاں جس کی زندگی باقی ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مار سکتی اور بسا اوقات تو قدرتِ الٰہی ایسے کرشمے دکھاتی ہے کہ عقلِ انسانی حیران رہ جاتی ہے ۔