سوزش ہوتی ہے ۔ شدید بخار چڑھ جاتا ہے ،آنکھیں سرخ ہوکر دردناک جلن سے شعلہ کی طرح جلنے لگتی ہیں ،مریض شدتِ درد اور شدید بے چینی و بے قراری میں تڑپ تڑپ کر بہت جلد مرجاتا ہے ۔(عجائب القراٰن، ص۲۵۷)
شہید کے برابر ثواب
عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِی میں فرماتے ہیں کہ طاعون مومنوں کے لئے رحمت اور کافروں کے لئے عذاب ہے اور یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ طاعون کا رحمت ہونا مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے اور جب طاعون کی بیماری کافروں پر مُسَلَّط ہو تو یہ آخرت سے پہلے دنیا میں انکے لئے عذاب ہے۔ جب کسی آبادی میں طاعون کی بیماری پھیلے اور بندۂ مومن وہاں صبر کرتے ہوئے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم مانتے ہوئے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ٹھہرا رہے تو اسے شہید کی مثل ثواب ملے گا، یہ تینوں ( صفتیں جو ابھی ذکر ہوئیں ) طاعون کی بیماری میں مرنے والے کے لئے شہید کے برابر ثواب پانے کے لئے شرط ہیں۔
(فتح الباری، کتاب الطب، باب اجر الصابر علی الطاعون، ۱۱/۱۶۳، تحت الحدیث: ۵۷۳۴)
دو حدیثوں میں تطبیق
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :’’ ایک حدیث میں ہے کہ جو طاعون میں مرا وہ شہید ہے جبکہ حدیثِ مذکور میں ہے کہ طاعون میں مبتلا ہونے والے کے لئے شہید کی مثل اجر ہے تو ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ جو طاعون کے مرض پر بغیر شکوہ و شکایت کے صبر کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہے اور اسی حالت میں اسے موت آجائے تو وہ شہید ہے اور جسے موت نہ آئے تو اس لئے شہید کی مثل ثواب ہے ۔ ‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الطب، باب اجر الصابر فی الطاعون، ۱۴/۷۱۳، تحت الحدیث:۵۷۳۴)
شہید کی مثل ثواب
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : طاعون کفار