حدیث نمبر:33 طاعون پرصبرکرنے کا ثواب
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُوْنِ فَأَخْبَرَہَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ عَذَابًا یَبْعَثُہُ اللہُ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ فَجَعَلَہُ اللہُ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِیْنَ فَلَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یَقَعُ الطَّاعُوْنُ فَیَمْکُثُ فِیْ بَلَدِہٖ صَابِرًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَنْ یُصِیْبَہُ إِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَہُ إِلَّا کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّہِیْد۔ (بخاری ،کتاب الطب ، باب اجر الصابر فی الطاعون ،۴/۳۰ حدیث: ۵۷۳۴)
ترجمہ : اُمُّ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو رسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: طاعون ایک عذاب تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلجس پر چاہتااسے بھیجتا ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلنے مؤمنین کے لئے اسے رحمت بنادیا ۔تو جو شخص طاعون پھیلنے کے زمانے میں اپنے شہر میں صبرکے ساتھ طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے تو اس کے لئے شہید کی مثل ثواب ہے۔
طاعون( Plague) کیا ہے ؟
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : طاعون، یہ جسم میں نکلنے والی گلٹیاں ہیں ، جو بغلوں ، کہنیوں ، ہاتھوں ،انگلیوں اور سارے بدن میں سخت درد اور سوجن اور جلن کے ساتھ نکلتی ہیں اور مُتَأَثِّرَہ حصہ سیاہ ،سرخ یا سبز ہو جاتا ہے ان کی وجہ سے طبیعت میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔(شرح مسلم للنووی،کتاب السلام، باب الطاعون والطیرہ والکہانہ، ۷/۲۰۴، الجزء الرابع عشر)
مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ کتاب ’’عَجائِبُ الْقُرْاٰن مَعْ غَرَائِب الْقُرْاٰن‘‘میں ہے ’’ طاعون ایک مُہْلِک(جان لیوا)وبائی بیماری ہے جس کو ڈاکٹر( پلیگ) Plague کہتے ہیں۔اس بیماری میں گردن اور بغلوں اور کُنجِ ران (ران کے کنارے )میں آم کی گٹھلی کے برابر گلٹیاں نکل آتی ہیں۔ جن میں بے پناہ درد اور ناقابلِ برداشت