Rتو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کریں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ چیز ملے گی توثواب طلب کرتے ہوئے صبر کریں گے ۔حالانکہ ان کے پاس نہ عِلْم ہو گا نہ حِلْم ۔ عرض کی :الٰہی! انہیں یہ خوبی عِلْمو حِلْم کے بغیر کیونکر ملے گی؟فرمایا: میں انہیں اپنے عِلْم و حِلْم سے دوں گا۔
(شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، باب فی الصبر علی المصائب، ۷/۱۹۰حدیث:۹۹۵۳)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’یا غوث‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس
کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)اولاد یا اس جیسی محبوب شے کے فوت ہو جانے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے ثواب کی امید پر صبر کرنا چاہیے کہ اس صبر پر جنت کی بِشارت ہے ۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب بندوں پر مصائب زیادہ آتے ہیں۔
(3) اللہ عَزَّوَجَلَّ کابہت بڑا کرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز لے لے اور بندہ اس مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کو جزا میں جنت عطا فرماتا ہے ۔
(4) صبر کرنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ عِلْم و حِلْم عطا فرماتا ہے ۔
(5) جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے کو دل سے قبول کرے اور اس پر صبر کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صِدِّیْقِیْن میں لکھ دیتا
ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭