بیٹے کی موت پر مسکراہٹ
ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن صبر وشکر کے آئینہ دارتھے۔ رَبّ کی رِضا پر راضی رہتے اور کبھی بھی حرفِ شکایت زباں پر نہ لاتے ۔ سِلْسِلَہ عَالِیَہ چِشْتِیَہ کے عظیم پَیشْوا حضرتِ سَیِّدُنا فُضَیْل بِن عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَھَّاب کو کبھی کسی نے مسکراتے نہ دیکھا تھا،لیکن جس دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے شہزادے ولیِ کامل حضرتِ سَیِّدُنا علی بِن فُضَیْل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتقال ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمسکرانے لگے ، لوگوں نے عرض کی : یہ خوشی کا کونسا موقع ہے جو آپ مسکرارہے ہیں ؟فرمایا: میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا پر راضی ہو کر مسکرارہا ہوں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا ہی کے سبب میرے بیٹے کو قضا آئی ہے ۔ رب عَزَّوَجَلَّ کی پسند اپنی پسند ۔ (مُلَخَّصًا تَذْکِرَۃُ الْاَوْلِیَائ،فارسی، ۱/ ۸۶)
صبر کرنے والوں کا مرتبہ
حضرتِ سَیِّدُناابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلی چیز لَوحِ محفوظ میں یہ لکھی کہ میں اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ہوں میرے سوا کوئی عبادت کا مستِحق نہیں !محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) میرے رسول ہیں۔ جس نے میرے فیصلے کوتسلیم کرلیااور میری نازل کی ہوئی مصیبت پر صبر کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا کیا تو میں نے اس کو صِدّیق لکھا ہے اور اس کوصِدّیقین کے ساتھ اٹھا ؤں گا اور جس نے میرے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور میری نازِل کی ہوئی مصیبت پر صَبْرنہیں کیا اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا وہ میرے سواجسے چاہے اپنامعبود بنالے ۔
(تفسیرقرطبی، پ۳۰، البروج، تحت الایۃ:۲۲، ۱۰/۲۱۰)
صابرین کوعِلْم وحِلْم عطا کیا جاتا ہے
حضرتِ سَیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے اپنے پیارے نبیِّ کریم، رء وف رحیم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہارے بعد ایسی اُمت پیدا کرنے والا ہوں کہ اگر انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی