اور وہ (فوت شدہ بچہ) پہلے سے تمہارے انتظار میں وہاں کھڑا ہو؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا یہ خوشخبری صرف اس شخص کے لئے ہے یا ہمارے لئے بھی ہے ؟ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تم سب کے لئے بھی ہے ۔ (فتح الباری ،کتاب الرقاق،باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ فیہ سعد، ۱۲/۲۰۵، تحت الحدیث:۶۴۲۴)
پسندیدہ چیز کے چلے جانے پر صبر کی فضیلت
مراٰۃ المناجیح میں ہے : یہ حدیثِ پاک ہر پیاری چیز کو عام ہے ماں باپ، بیوی، اولاد حتی کہ فوت شدہ تندرستی وغیرہ جس پر بھی صبر کرے گا اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت پائے گا۔ لہٰذا یہ حدیث بڑی بِشارت کی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۲/۵۰۵)
شَرْحُ الطِّیْبِی میں مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں پیاری چیز کو دنیوی چیز کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی دنیوی چیز کے فوت ہونے پر صبر کیا تو اس کی جزا جنت ہے۔یہ اس لئے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اگر کسی اُخرَوی چیز (یعنی جن چیزوں کی وجہ سے آخرت بہتر بنتی ہے جیسے دینی دوست ، دینی استاذ ، پیر ومرشد وغیرہ )کے فوت ہوجانے پر صبرکیا تو اس کی جزا جنت سے بھی زیادہ ہے یعنی’’اللہ کی رضا ‘‘اور یہ سب سے بڑی جزا ہے ۔ ‘‘ (شرح الطیبی، کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت، ۳/۴۱۷، تحت الحدیث:۱۷۳۱)
سدا کیلئے ہوجا راضی خدایا ہمیشہ ہو لطف و کرم یاالٰہی
کائنات کی ہر ہر شے کا خالق و مالک خدائے بزرگ وبرتر ہے ۔ہر جگہ اسی قَادِرِ مُطْلَق (ہر چیز پر قادر) کا حکم چلتا ہے جیساکہ قراٰن میں ہے: ’’اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘(پ۷، الانعام:۵۷)ترجمۂ کنز الایمان :حکم نہیں مگر اللہ کا ۔ اِنسان اور اس کی تمام پسندیدہ اشیاء بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی مِلک ہیں۔ اگر وہ اپنی مِلْک (مِلکِیَّت) میں سے کچھ لے لیتا ہے اور اُس پر بندہ صبر کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اسکے صبر کے بدلے میں جنت کے انعام سے نوازتا ہے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اپنے بندوں پر فضلِ عظیم ہے ۔