حدیث نمبر:32 صابر کی جزا جنت ہے
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی مَا لِعَبْدِی الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَاء ٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلَّا الْجَنَّۃُ۔
(بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی بہ وجہ اللہ، ۴/۲۲۵، حدیث:۶۴۲۴)
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، جب میں اپنے مومن بندے سے اس کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں ، پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
محبوب شے کے بدلے جنت
حَافِظ اِبنِحَجَرعَسْقَلَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری میں فرماتے ہیں :’’صَفِیُّہ‘‘ سے مراد صرف بیٹا نہیں بلکہ یہ عام ہے اس میں بھائی باپ ہر وہ انسان یا چیز شامل ہے جس سے انسان محبت کرتا ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے مُفْرَد (واحد) ذکر کیا ہے یعنی کسی کا ایک بچہ فوت ہو اس کے لئے بھی جنت ہے۔
اِحْتَسَبَہسے مراد یہ ہے کہ محبوب چیز کے فوت ہوجانے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید کرتے ہوئے اس پر صبر کرے ۔
امام احمد و نسائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں اس سے محبت ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں ! پھر اس کا بیٹا فوت ہوگیا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے دریافت کیا کہ اس آدمی کا کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کا بیٹا فوت ہوگیا۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم جنت کے کسی دروازے سے آؤ