قبروں کی زیارت کرنا
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عُمْدَۃُ الْقَارِی میں فرماتے ہیں : زیارتِ قبور کے مسئلے میں علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے ،حازمی کہتے ہیں کہ تمام اہلِ علم حضرات مَردوں کے لئے قبروں کی زیات کے جائز ہونے کے قائل ہیں۔ زیارتِ قبور کے جواز پر بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک حضرتِ سَیِّدُنا بُرَیْدَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث ہے جسے امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے روایت کیا ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو۔
(عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۶/۹۴، تحت الحدیث: ۱۲۸۳)
عورتوں کوقبروں پر جانا منع ہے
سرکارِ اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فتاوی رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا :’’ اَصَحّ (صحیح ترین بات) یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں۔ (فتاوی رضویہ مخرجہ ، ۹/ ۵۳۷ ) مزید فرماتے ہیں :قبورِ اَقرباء پر خصوصاً بحال قُرب عہدِ مَمات تَجْدیدِ حُزْن لازِمِ نِسَاء ہے (یعنی قریبی رشتہ داروں کی قبور پرجانے سے عورتوں کا غم ضرور تازہ ہوتا ہے بالخصوص اس وقت کہ جب وفات کچھ عرصہ قبل ہی ہوئی ہو )اور مزاراتِ اولیا پر حاضری میں اِحْدَی الشَّنَاعَتَیْن(دو برائیوں میں سے ایک)کا اندیشہ یا ترکِ ادب (ادب چھوڑنا) یا اَدَب میں اِفرَاط ناجائز (حد سے زیادہ بڑھ جانا)تو سبیل اِطلاق منع ہے۔ ولہٰذا’’غُنِیَّہ‘‘ میں کراہت پر جزْم فرمایا(یعنی مکروہ کہا) البتہ حاضری وخاکبوسی آستانِ عرشِ نشان سرکارِ اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم( یعنی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضے پر حاضری) اَعظم ُالْمَندُوبات ( مستحبات میں سب سے اہم) بلکہ قریبِ واجبات ہے۔ اس سے (عورتوں کو) نہ روکیں گے اورتعدیل ادب (ادب میں میانہ روی رکھنا) سکھائیں گے۔ وَاﷲُ تَعَالٰی اَعْلَمُ (فتاوی رضویہ ، ۹ /۵۳۸)