عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گناہ گاروں اور ایذا دینے والوں کو نہ صرف معاف فرماتے بلکہ انہیں اِنعامات سے بھی نوازتے۔ سیرت کی کتب میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عفو کا معاملہ اہل مکہ و طائف کے سرداروں سے مخفی نہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکۂ مکرمہ میں فاتحانہ انداز سے داخل ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عام معافی کا دامن مکے کے سرداروں اور ان زعماء تک پھیل گیا جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی زمین میں سرکشی کی اور آپ کو ایذا دینے میں کسی زیادتی سے دریغ نہ کیا۔آپ مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئے توکچھ لوگوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کیا اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے جس کے نتیجے میں اُنہیں شِکست ہوئی اب وہ امن کے طالب ہوئے تو نہ صرف آپ نے انہیں امان دیکر معاف فرمادیا بلکہ ان کی تالیفِ قلب کے لئے انہیں بہت سامال بھی عطا فرمایا ۔
ایذا دینے والے پر انعام کی بارش
حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُٹھ جاتے تو ہم بھی اُٹھ جاتے ۔ ایک دن آپ اُٹھے تو ہم بھی آپ کے ساتھ اُٹھے،جب آپ مسجد کے درمیان پہنچے تو ایک اَعرابی نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا آپ کی چادر کُھردری تھی جس سے آپ کی گردن مبارک پر اس کا نشان رہ گیا پھر اَعرابی نے کہا: اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!یہ مال جو تمہارے پاس ہے اس سے میرے یہ دو اُونٹ لادْدو کیوں کہ جو تم مجھے دوگے وہ نہ تمہارا مال ہے نہ تمہارے والد کا، یہ سن کر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استغفار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : نہیں ! میں تجھے نہیں دونگا جب تک تم میری چادر کھینچنے کا بدلہ نہ دو۔ اَعرابی نے کہا: اللہ کی قسم میں آپ کو بدلہ نہیں دونگا۔ سرکار نے تین مرتبہ یہی فرمایا اور ہر مرتبہ اَعرابی نے یہی کہا میں آپ کو بدلہ نہیں دونگا ، جب ہم نے اَعرابی کا قول سنا تو ہم تیزی سے اس کی طرف دوڑے تو رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے میری بات سنی میں اسے قسم دیتا ہوں کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹے جب تک کہ میں اسے اجازت نہ دے دوں ، پھر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے کہا : اے فلاں اِسے ایک اونٹ گندم اور ایک اونٹ کھجور دے دو پھر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: چلو۔ ( نسائی،کتاب القسامۃ والقود، باب الْقَوَدُ مِنَ الْجَبْذَۃ، ص۷۶۸، حدیث: ۴۷۸۵)