Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
350 - 627
	 حدیث ِ مذکور میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسنِ اَخلاق کا بہترین نمونہ موجود ہے ۔جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سمجھانے پر اس عورت نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بے ادبانہ الفاظ کہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہ تو اُسے ڈانٹا نہ مارا نہ ہی اپنے نفس کی خاطر کوئی انتقامی کاروائی کی ۔پھر جب وہ عورت نادِم ہوکر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تب بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے اس کی غلطی کا احساس نہیں دلایا نہ اُسے اس کی خطا پر زد و کوب کیا بلکہ احسن انداز میں اُسے نیکی کی دعوت دی، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ وہ اس وقت سخت صَدْمے سے دوچار ہے ۔
نیکی کی دعوت
	شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کوئی قابلِ اصلاح کام دیکھتے تو  نیکی کی دعوت دیتے ۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب دیکھا کہ وہ عورت قبر کے پاس بیٹھی رور رہی ہے اور اس طرح آہ و بُکا کرنا صبر اور تقویٰ کے خلاف ہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے صبرو تقویٰ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  اِتَّقِی اللہَ وَاصْبِرِی یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور صبر کر۔
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعفو و درگزر فرماتے تھے
	ترمذی شریف کی روایت ہے کہ اَبُو عَبْدُ اللہ جَدَلی کہتے ہیں کہ میں نے اُمُّ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلُّفاً، نہ بازاروں میں شور کرتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ  معاف فرمادیتے اور در گزر سے کام لیتے ۔(ترمذی، کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ، باب ماجاء فی خلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم،  ۳/۴۰۹، حدیث :۲۰۲۳)
	نبیِّ کریم، رء وف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عفو و درگزر کے کمال مرتبے پر فائز تھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی