اِمَام شَرفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جب اس عور ت نے آکر معافی مانگی اور عذر پیش کیا کہ میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی اس لئے نازیبا کلمات منہ سے نکل گئے توشفیعِ مذنباں ، سرورِ ذیشاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ حکمت بھرا جواب ارشاد فرمایا : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی، یعنی صبر تو پہلے صَدْمہ کے وقت ہوتاہے، گویا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے یوں فرمایا: تو میرے سامنے معذرت نہ کر(اور خوف محسوس نہ کر) کیونکہ ہماراغصہ صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہی کے لئے ہوتا ہے (اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا ) تواپنے نفس کی طرف دیکھ کہ اچانک آنے والی مصیبت پرصبر کے بجائے جَزَع و فَزَع (رونا پیٹنا) کر کے تیرے نفس نے تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ملنے والی فضیلت وکرامت سے محروم کر دیا ہے ۔‘ ‘ (شرح الطیبی علی المشکوٰۃ، کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، ۳/۴۱۵، تحت الحدیث:۱۷۲۸)
سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حُسنِ اخلاق
اس حدیث پاک سے ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حسنِ اخلاق اور عفو و درگزر کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اس عورت کو نصیحت کی تو اس نے بہت ہی دل آزاری والی بات کہی لیکن قربان جائیں اس پیکرِ عظمت وشرافت پر کہ ہر طرح کے اختیار ات کے باوجود کسی طرح کی کوئی جوابی کاروائی نہ فرمائی۔ جب وہ معافی طلب کرنے آئی تب بھی اسے شرمندہ کرنے کے بجائے علم و حکمت کے گوہر عطا فرمائے ۔ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صبر وتحمل اور عفو و درگزر کے توکیا کہنے۔
وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دعااکثر کوئی لاؤ مثال ایسی شرافت ہو تو ایسی ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حسنِ اخلاق کے جس عظیم مرتبے پر فائز ہیں اس کاذکر قراٰنِ مجید میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس طرح فرمایاہے :
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (پ۲۹، القلم:۴) ترجمۂ کنز الایمان :اور بے شک تمہاری خو بڑی شان کی ہے ۔