Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
348 - 627
 والی ٔدوجہاں کا دربارِ عالی
	دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن میں ہے عَلّامَہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:’’جب اس عورت کو بتایا گیا کہ تجھے نیکی کی دعوت دینے والے والی ٔ دو جہاں ، سرورِ ذیشاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے تو اس نے دل میں خوف محسوس کیا، آپ کے دربار عالی کی ہیبت اس کے دل میں بیٹھ گئی ۔اس نے سوچا کہ جس طرح دنیوی بادشاہوں کے دربان و پہریدار ہوتے ہیں لوگوں کو بادشاہ کے پاس جانے سے روکتے ہیں ، شاید یہاں بھی ہے ایسا ہی معاملہ ہوگا ۔لیکن جب وہ شہنشاہ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دربار عالی میں پہنچی تو معاملہ بالکل برعکس پایا۔ (د لیل الفالحین ،باب الصبر ۱/۱۷۲)یعنی وہاں نہ کوئی دربان تھا نہ پہرے دار ۔کیونکہ وہ کسی دنیوی بادشاہ کا دربار نہ تھا بلکہ وہ تو نبیوں کے سالار، احمد مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ دربار تھا جہاں ہر بے کس وناچار کو حاضر خدمت ہونے کی اجازت عام تھی۔ یہ وہی مقدس بارگاہ تھی جہاں حاضر ہونے والوں کے بگڑے ہوئے کام بن جاتے ہیں ، بڑے بڑے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ قراٰن کریم میں ارشادِ خدا وندی ہے :
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا  (پ۵، النسائ: ۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
مجرم بلائے آئے ہیں جَائُ وْکَ ہے گواہ
 پھر رَد ہو کب یہ شان کرِیموں کے دَر کی ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد