صَدْمہ ہے۔ وہ عورت بھی اپنے بیٹے کی موت کا صَدْمہ برداشت نہ کر سکی اور اس کی قبر پر آکر رونے لگی ،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے دیکھا تو صبر کی تلقین فرمائی ۔اس پر غم کا غلبہ تھا وہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پہچان سکی اوربولی کہ آپ مجھے چھوڑ دیں ،جیسا غم مجھے پہنچا ہے آپ کو ایسا غم نہیں پہنچا۔ پھر جب اسے نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق بتا یا گیاتو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کراس نے اپنے اندازِ گفتگو پر معافی مانگ لی ۔
صَدمہ کسے کہتے ہیں ؟
علامہ عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :صَدمہ کے معنی کسی چیزسے ٹکر لگنے کے ہیں چونکہ مصیبت سے بھی دل کو ایک دھچکا لگتا ہے اس لئے مصیبت کے اثر کو صَدْمہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہاں صبر سے مراد صبرِکامل ہے جس پر ثواب مُرَتَّب ہوتا ہے ورنہ مصیبت خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو رفتہ رفتہ صبر آہی جاتا ہے کسی مصیبت پر اجْر صبرِ جمیل اور حسنِ نِیَّت ہی سے ہے ۔(عمدۃ القاری،کتاب الجنائز،باب زیارۃ القبور،۶/۹۴، تحت الحدیث: ۱۲۸۳)
مدہوشی کا کفر معتبر نہیں
اس عورت پر غم کا شدید غلبہ تھا اس لئے نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پہچان سکی اوراس انداز میں جواب دیا ۔مراٰۃ المناجیح میں ہے: یہ نہ پہچاننا بھی شدت غم سے ہوگا ورنہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تو اجنبی بھی پہچان لیتے تھے، گلی سے گزرتے تو گھروالے خوشبو کی مہک سے پہچان جاتے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تو کنکر ،پتھر، جِنّ و اِنس ،چاند ،تارے ،سورج سب پہچانتے ہیں۔اس عورت نے جو کہا تھا وہ کفر تھا کیونکہ ا س میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توہین تھی مگر چونکہ اس نے غم کی مدہوشی میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوپہچانے بغیر یہ الفاظ کہے تھے اس لئے وہ اِسلام سے خارج نہ ہوئی۔ فُقہاء فرماتے ہیں کہ اگر جاں کَنی کی شدت میں مرنے والے سے کوئی کفر کی بات سنی جائے تو اسے کافر نہ کہا جائے گا اس کی نماز جنازہ اور دفن ہوگا کیونکہ مدہوشی کا کفر معتبر نہیں۔‘‘ (ملخصاًمراٰۃ المناجیح ،۲/ ۵۰۳)