حدیث نمبر:31 مصیبت کے وقت صبر
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ مَرَّالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِمْرَأَۃٍ تَبْکِیْ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اِتَّقِی اللہَ وَاصْبِرِیْ قَالَتْ إِلَیْکَ عَنِّیْ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیْبَتِیْ وَلَمْ تَعْرِفْہُ فَقِیْلَ لَہَا إِنَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْ بَابَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِیْنَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْکَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلَی۔وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِّمُسْلِمٍ :تَبْکِیْ عَلٰی صَبِیٍّ لَّھَا۔
(بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۱/ ۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۳)
ترجمہ :’’ حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک عورت کے پاس سے گزرے ، وہ ایک قبر کے قریب رو رہی تھی، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ خدا سے ڈر اور صبر کر۔‘‘ وہ آپ کو نہ پہچان سکی اس لئے کہا:آپ مجھ سے دور ہو جائیے، کیونکہ آپ کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی۔ پھر جب اسے بتایا گیا کہ یہ تو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔ تو وہ درِ اقدس پر حاضر ہوئی، تو وہاں کوئی دربان نہ پایا اُس نے عرض کی: میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا، اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ صبر تو پہلے صَدْمہ کے وقت ہوتاہے۔‘‘ مسلم شریف میں ہے کہ ’’وہ اپنے بچے پر رو رہی تھی۔‘‘
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :علامہ قرطبی نے فرمایا کہ شاید وہ عورت نوحہ زن تھی اور بہت زیادہ جَزَع و فَزَع (رونا پیٹنا) کر رہی تھی اس لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس عورت سے فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔ علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے’’ اِتَّقِی اللہَ‘‘ (اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر) اس لئے فرمایا تاکہ اس کے لئے صبر کرنا آسان ہو جائے، گویا فرمایا کہ تو نے اگر صبر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے غضب سے ڈر ، اور آہ و بُکا نہ کر، تاکہ تجھے اس پر ثواب ملے ۔
(عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۶/۹۳، تحت الحد یث:۱۲۸۳)
بڑی مصیبت کے وقت صبر کرنا ہی اصل صبر ہے اور اسی پر اجرِ عظیم ہے ، بیٹے کی موت ماں کے لئے بہت بڑا