Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
345 - 627
اور احادیثِ صحیحہ سے اس کا جواز(جائز ہونا)  ثابت ہے جبکہ وہ حق بے(بغیر) اس طریقے کے ملنا مُیَسَّر(ممکن)نہ ہو، ورنہ یہ بھی جائزنہیں ‘‘۔ مزید فرمایا : اپناحق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنامباح ہے ۔جان لیجئے کہ جھوٹ کبھی مباح اور کبھی واجب ہوتاہے اس میں ضابطہ (قاعدہ) یہ ہے کہ ہراچھا مطلوب (مقصد) کہ جس تک صِدْق وکِذْب (سچ اور جھوٹ) دونوں سے رَسائی ہوسکے تو اِس صور ت میں جھوٹ بولنا حرام ہے اور ہراچھا مطلوب جس تک رَسائی صرف کِذْب سے ہوسکے توجھوٹ بولنا مباح ہے جبکہ اس مطلوب کو حاصل کرنا مباح ہواور اگر مطلوب حاصل کرنا واجب ہو تو پھرجھوٹ بولنا واجب ہے جیسا کہ بے گناہ کو دیکھے جو کسی ایسے ظالم سے روپوش ہو رہاہے جو اسے مارڈالنے یا اِیذا پہنچانے کا ارادہ رکھتاہو تو ایسی صورت میں (اس مظلوم کوبچانے کے لئے)جھوٹ بولنا اور یہ کہنا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا یا مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ، واجب ہے۔(فتاویٰ رضویہمُخَرَّجَہ، ۲۴/۳۵۲ ،۳۵۴)
 مدنی گلدستہ 
’’صبر کرو‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے  حد یثِ مذ کوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے لوگوں کی مدد کرتے اور ان کی دکھ بیماریاں دور کرتے ہیں۔
(2) چاہے کیسے ہی بڑے ظالم کا سامنا ہوحق بات کے اظہار سے نہیں ڈرنا چاہیے۔
(3)نیک بندے راہ خدا میں آنے والی ہرمصیبت برداشت کر کے اپنے رب کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔
(4)ہرمشکل گھڑی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی کی طرف رجوع لانا چاہیے اور اسی سے دعا کرنی چاہیے۔
(5)حدیثِ مذکور اس بات کا ثبوت ہے کہ اولیا ئے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامات حق ہیں۔
(6) اگر کوئی عذرِ شرعی موجود ہو تو تَورِیہ( یعنی پہلو دار بات کرنا) جائز ہے ۔
	یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کے صدقے مصیبتوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرما! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم