Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
344 - 627
اپنے قتل پر مُعاوَنَت کیوں کی؟ 
 سوال : اس لڑکے نے اپنے قتل پر معاونت کیوں کی حالانکہ یہ جائز نہیں ہے ؟
جواب:  قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض بِنْ مُوْسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’اِکْمَالُ الْمُعْلِم‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ لڑکے نے ایسا اس لئے کیا تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانے کی حقَّانِیت ظاہر ہو جائے اور لوگ ایمان لے آئیں اور واقعی ایسا ہی ہوا۔‘‘علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے فرمایا: چونکہ اس لڑکے کو معلوم تھا کہ میں قتل کر دیاجاؤں گا اس لئے ایسا کیا ۔(اکمال المعلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۸/ ۵۵۷، تحت الحدیث:۳۰۰۵) 
کتنے بچوں نے بہت چھوٹی عمر میں کلام کیا ؟
	حدیث پاک میں چھوٹے بچے کے کلام کرنے کا بیان ہے ،یہ ان بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے گود میں کلام کیا۔عُمْدَۃُ الْقَارِی میں ہے : چھ بچوں نے بہت چھوٹی عمر میں کلام کیا :(1,2)حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ ویحییٰ  عَلَیْہِمَا السَّلَام (3) صاحبِ جُرَیج (4) حضرتِ سَیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَامکی گواہی دینے والا بچہ (5)فرعون کو کنگھی کرنے والی کا بیٹا (6)صاحبِ اُخْدُود۔(عمدۃ القاری، کتاب المظالم والغضب، باب اذا ھدم حائطا فلیبن مثلہ، ۹/۲۵۶، تحت الحدیث:۲۴۸۲)
 راہب نے جھوٹ بولنے کا مشورہ کیوں دیا؟ 
سوال :راہب نے لڑکے کو جھوٹ بولنے کا مشورہ کیوں دیاتھا؟ 
 جواب :علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ’’ ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے ، خصوصاً اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے ۔‘‘(اکمال المعلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود، ۸/۵۵۵، تحت الحدیث:۳۰۰۵)
	سرکارِ اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنّت  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں : ’’ اپنا حقِ مردہ(جس کے ملنے کی امید نہ ہو) زندہ کرنے کے لئے پہلودار بات کہنا کہ جس کا ظاہر دروغ(جھوٹ) ہو اور واقعی میں اس کے سچے معنے مراد ہوں اگرچہ سننے والا کچھ سمجھے بِلاشُبہَہ بِاتفاقِ علمائے دین جائز