بادشاہ کانام کیا تھا ؟
حدیث میں جس بادشاہ کاذکرہے اس کا نام زُرْعَہ بِنْ حَسَّان تھا حُمَیْر اور گردو نواح کا بادشاہ تھا اسے یوسف بھی کہا کرتے تھے۔ (تفسیر روح البیان،پ۳۰،البروج، تحت الایۃ:۴، ۱۰/۳۸۶) تفسیرِ بَغَویمیں ہیکہ یہ نَجْران میں حُمَیْر کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ باسعادت سے ۷۰ سال پہلے زمانۂ فطرت میں تھا ۔ (تفسیربغوی،پ۳۰،البروج، تحت الایۃ:۴، ۴/۴۳۸)
لڑکا کون تھا ؟
حدیث میں جس لڑکے کاذکرہوا ’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن‘‘ میں اس کا نام عَبْدُ اللہ بن تَامِر بیان کیا گیا ہے ۔
(دلیل الفالحین، باب فی الصبر، ۱/۱۶۲)
اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کا مصیبت پر صبر
قاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض بِنْ مُوْسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’اِکْمَالُ الْمُعْلِم‘‘ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ معلوم ہوا کہ نیکی کی دعوت دیتے وقت نیک بندوں کو مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور وہ ان مصائب پر صبر کرتے ہیں ،یہ بھی معلوم ہوا کہ چاہے کتنے ہی شدید مصائب کا سامنا ہو اظہارِ حق سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ ہر مشکل گھڑی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع اور اس سے دعا کرنی چاہیے ۔‘‘ (اکمال المعلم،کتاب الزہد والرقائق،باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۸/ ۵۵۷، تحت الحدیث:۳۰۰۵)
کراماتِ اَوْلیا ء
اِمام یَحْیٰی بِن شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :اس حدیث ِپاک میں اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامات کا ثبوت ہے۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الزہد، باب قصۃ اصحاب الاخدود۔۔۔الخ، ۹/۱۳۰، الجزء الثامن عشر)