Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
342 - 627
نے آرا اس کے سر کے درمیان رکھا اور سرکے دو ٹکڑے کردیئے، پھراپنے مُصاحِب سے کہا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دے تو اس نے بھی انکار کر دیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھا اور اس کے دو ٹکڑے کردیئے، پھر لڑکے کو لایا گیا اور اُس سے بھی دین چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا، اُس نے بھی انکار کردیا۔ چنانچہ، اُسے چند آدمیوں کے حوالے کیا گیا کہ اگر یہ اپنے نئے دین سے پلٹ جائے تو ٹھیک ورنہ اسے فلاں پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دینا ۔ چنانچہ، لوگ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس نے دعا کی : اے اللہ عَزَّوَجَل! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے کفایت کر۔ چنانچہ، پہاڑ لرزنے لگا اور وہ گر پڑے ، لڑکا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والوں نے کیا کیا ؟کہا: اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے ان سے بچالیا۔ بادشاہ نے اسے کچھ اور آدمیوں کے حوالے کیا اور کہا: اسے کشتی میں سوار کر کے دریا کے وَسْط میں لے جاؤ اگر اپنے دین سے پھر جائے تو بہتر ہے ورنہ اسے ( دریا میں )پھینک دینا۔ چنانچہ، وہ اُسے لے گئے،تو اُس نے دعا کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے محفوظ رکھ۔ چنانچہ، کشتی اُلٹ گئی اور وہ غرق ہوگئے، لڑکا پھر بادشاہ کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھ جانے والے کہاں ہیں ؟ اُس نے کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ان سے بچالیا اور تو اُس وقت تک مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک میری بات پوری نہ کرے، بادشاہ نے کہا: بتا کیا بات ہے ؟ اُس نے کہا :لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مجھے ایک لکڑی پر سولی چڑھا دے پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر لے کر یہ الفاظ کہتے ہوئے مجھے تیر ماردے ،’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے۔‘‘تو جب ایسا کرے گا تو مجھے قتل کرسکے گا ۔
	 چنانچہ، بادشاہ نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے لڑکے کو سولی پر لٹکا کر اس کے تَرکَش سے ایک تیر لیا اور کمان میں رکھ کر’’ بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَام‘‘ کہا :اور تیر پھینک دیا جو لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ ا س نے اپنا ہاتھ کنپٹی پر رکھا اور اس دار فانی سے آخرت کی طرف کوچ کر گیا ۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔جب لوگوں کی یہ حالت بادشاہ کو بتا کر کہا گیا کہ تجھے جس بات کا خطرہ تھا اللہ (عَزَّوَجَل) نے وہ سب کچھ تیرے ساتھ کردیا ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ نے گلیوں کے دَہانے پر خندق کھودنے کا حکم دیا۔ چنانچہ، خندقیں کھود کر ان میں آگ جلا دی گئی اور بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ جو شخص اپنے دین سے باز نہ آئے اُسے آگ میں ڈال د یا جائے یا اس سے کہا جائے آگ میں داخل ہو جا! چنانچہ، لوگوں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی۔ وہ آگ میں داخل ہونے سے کچھ ہچکچا نے لگی تو بچے نے کہا :ماں صبر کر، تو حق پر ہے۔