آگ سے حفاظت کیلئے ایک مضبوط دیوار تیار کرلی ہے ۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ، ص۱۴۱۶، حدیث: ۲۶۳۶)
ایک بچے کے انتقال پر صبر کا انعام
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جس مسلمان جوڑے کے تین بچے انتقال کرجائیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ان بچوں پر فضل ورحمت کرتے ہوئے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : اور دو بچے؟ فرمایا: اور دو بچے بھی۔ پھر عرض کی:اور ایک؟ فرمایا: ایک بھی۔ پھر فرمایا: اس ذاتِ پاک کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جس عورت کا کچا بچہ فوت ہوجائے (یعنی حمل ضائع ہوجائے) اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف کے ذریعے کھنچتا ہوا جنت میں لے جائے گا ۔ (مسند امام احمد، ۸/ ۲۵۴، حدیث:۲۲۱۵۱ )
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’میری امت میں سے جس کے دوبچے پیشوائی کرنے والے ہونگے (یعنی فوت ہوچکے ہوں گے)اللہ عَزَّوَجَلَّ انکے سبب اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: اور جس کاایک بچہ پیشو ائی کے لیے گیاہو تو ؟فرمایا: وہ ایک بچہ بھی اس کی پیشوائی کرے گا۔‘‘عرض کی :آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت میں جس کی پیشوائی کیلئے کوئی نہ ہوتو؟ فرمایا :ایسوں کی پیشوائی میں کروں گا اور وہ میرے جیسا پیشوا ہرگز نہ پاسکیں گے۔ ‘‘
(ترمذی،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی الثناء الحسن علی المیت، ۲/۳۳۳، حدیث:۱۰۶۴)
جس کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی
اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد