Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
336 - 627
سَیِّدُناشیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتایا ہے۔(شرح المواھب، ۴/ ۳۱۳)حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ان ساتوں مقدس اولاد میں سے حضرتِ سَیِّدُناابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ،حضرت مَارِیَہ قِبْطِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے شِکَم اطہرسے تَوَلُّد(تَ۔وَلْ۔لُدْ۔پیدا)ہوئے باقی تمام اولاد کرام اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناخَدِیجَۃُ الْکُبْرٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے  بطن اطہر سے پیداہوئیں۔  (شرح المواھب، ۴/ ۳۱۶)
بچوں کے انتقال پر صبرکا ثواب
	شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی مگر صرف اتنی دیر کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم پوری ہوجائے۔ ‘‘( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد، ص۱۴۱۵، حدیث:۲۶۳۲)
	 اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتاہے : ’’وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَاترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ۔(پ ۱۶، مریم:۷۱)
	لہٰذا حدیث مبارکہ کامعنی یہ ہوا کہ آگ اسے بالکل معمولی چھوئے گی تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم پوری ہوجائے لیکن اس سے انسان کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔(شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ، ۸/۱۸۰، الجزء السادس عشر)
آگ سے بچانے والی مضبوط دیوار
	 ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئی:اے اللہ عَزَّوَجَلّ کے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے لئے دعا کیجئے کیونکہ میں اپنے تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔‘‘ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’کیا تُو تین بچوں کو دفنا چکی ہے ؟‘‘ عرض کی:جی ہاں ! فرمایا:بے شک! تو نے