Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
335 - 627
لئے کہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صبر و ضبط کو بارہا ملاحظہ فرماچکے تھے غزوہ ٔاُحد کی اُس قیامت خیز گھڑی میں زخمی ہونے کے باوجود زبان سے اُف تک نہ کہا، غزوہ خندق کی اُس شدت میں جسے قراٰن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ دل حلقوم تک آگئے تھے ، پہاڑ سے بھی زیادہ اِسْتِقَامَت تھی اور آج بچے کا یہ حال ملاحظہ فرماکر رورہے ہیں یا تعجب اس پر ہوا کہ میت پر رونے سے منع فرمایا ہے پھر آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟ تو جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ شفقت کا مقتضٰی ہے جو اختیاری نہیں ، فطری ہے اور یہ ممنوع نہیں بلکہ محمود ہے اس لئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے اُنہیں بندوں پر مہربانی فرماتا ہے جو دوسروں پر مہربان ہوتے ہیں۔ (نزھۃ القاری، ۲/ ۷۹۰ )
	ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت نرم دل اور رحیم ہیں۔رحم کرنا ایسی صفت ہے کہ جسکی وجہ سے رحمت الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔ انسان تو انسان بسا اوقات بے زبان جانوروں پر رحم کرنے والوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ،
فاحشہ عورت کی بخشش ہو گئی 
	منقول ہے کہ ایک فاحشہ عورت کو صرف اس لئے بخش دیا گیا کہ اس نے کنویں کے منڈیر پرپیاس سے تڑپتے ہوئے کتے کو پانی پلایا تھا۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم …الخ، ۲/۴۰۹، حدیث:۳۳۲۱)
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اولادِ کرام
	اس بات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اولاد کرام کی تعداد چھ ہے۔ دو فرزند حضرتِ سَیِّدُنا قاسم و حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم اور چار صاحبزادیاں حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب و حضرتِ سَیِّدَتُنا رقیہ و حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم و حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رِضْوانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ،  لیکن بعض مؤرخین نے کہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک صاحبزادے عبداﷲ بھی ہیں جن کا لقب طیب و طاہر ہے۔ اس قول کی بنا پر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے۔ تین صاحبزادے اورچار صاحبزادیاں رِضْوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ حضرتِ