Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
334 - 627
	عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ الْبَارِی میں فرماتے ہیں :’’ حدیث شریف کے الفاظ ’’لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  جس چیز کو لینے کا ارادہ فرماتا ہے وہ وہی چیز ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی نے بندے کو عطا فرمائی تھی اگر وہ بندے سے لے لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہی لیا جو اُس کا تھا ، لہٰذا اس وقت بے صبر ی اور جَزَع و فَزَع کرنا مناسب نہیں کیونکہ اگر کسی کو کوئی چیز امانت کے طور پر دی جائے اور پھر اس سے واپس طلب کی جائے تو اسے جزع و فزع نہیں کرنا چاہیے ۔ (فتح الباری،  کتاب الجنائز،  باب قول النبی یعذب المیت، ۴/۱۳۶، تحت الحدیث:۱۲۹۰)
حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہَا
	 حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ا ن صاحبزادی کا نام حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاتھا اور ان کے فوت ہونے والے بچے کا نام علی بن ابو العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھا ۔(فتح الباری، کتاب الجنائز،  باب قول النبی یعذب المیت، ۴/۱۳۵، تحت الحدیث:۱۲۹۰)
صبر کرو اَجر پاؤ
	علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :’’جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ کی شہزادی حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پیغام ملا تو آپ نے فرمایا: فَلْتَصْبِرْ یعنی انہیں چاہیے کہ صبر کریں اور اس صبر پر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی نیت کریں ، تاکہ ان کا یہ عمل ان کے نیک اعمال میں شمار کیا جائے۔‘‘ 
 (عمدۃ القاری، کتاب الجنائز،  باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۶/۱۰۱، تحت الحدیث:۱۲۸۴)
 شفیق اور رحم دل آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
	(حضرت سَیِّدَہ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے)بچے کا حال دیکھ کر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اَزْراہِ شفقت ضبط نہ رہا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس پر حضرتِ سَیِّدُنا سَعَد بِنْ عُبَادَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو تعجب ہوا اس