Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
333 - 627
 حدیث نمبر:29     اولاد کی موت پرصبر کرنے کا ثواب
	عَنْ اَبِی زَیْدٍ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَحِبِّہِ وَابْنِ حِبِّہٖ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا، قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  إِنَّ ابْنِیْ قَدِ احْتُضِرَ فَاشْھَدْنَا  فَأَرْسَلَ یُقْرِیئُ السَّلَامَ وَیَقُولُ: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی وَکُلُّ شَیْیئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ تُقْسِمُ عَلَیْہِ لَیَأْتِیَنَّہَا فَقَامَ وَمَعَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ، وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ فَرُفِعَ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّبِیُّ فَاَقْعَدَہُ فِیْ حِجْرِہٖ وَنَفْسُہُ تَتَقَعْقَعُ  فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ فَقَالَ سَعْدٌ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا ہَذَا فَقَالَ ہَذِہٖ رَحْمَۃٌ جَعَلَہَا اللہُ فِی قُلُوْبِ عِبَادِہٖ  وَ فِی رِوَایَۃٍ ’’فِی قُلُوبِ مَنْ شَائَ مِنْ عِبَادِہٖ ‘‘وَإِنَّمَا یَرْحَمُ اللہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَاءَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الجنائز، باب قول النبی ، یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ، ۱/۴۳۴، حدیث:۱۲۸۴)
	 ترجمہ : حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آزاد کردہ غلام اور آپ کے محبوب اور محبوب کے بیٹے حضرتِ سَیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ’’ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ایک صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہورہاہے آپ تشریف لے آئیں ، آپ نے جواب میں سلام کے ساتھ کہلا بھیجا کہ جو چیز خدا تعالیٰ کی تھی وہ اُس نے لے لی اور اُسی کا ہے جو اُس نے دیا اورسب کے لئے ایک میعاد مقرر ہے ، پس چاہییٔ کہ وہ صبرکریں اوراسے ثواب سمجھے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحبزادی نے آپ کو قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیے ۔ چنانچہ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوئے سَعَد بِنْ عُبَادَہ، مَعَاذ بِنْ جَبَل، اُبَی بِنْ کَعْب اورزَیْد بِن ثَابِت(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) اور کچھ دوسرے لوگ بھی آپ  کے ہمراہ تھے، وہ بچہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لایا گیا وہ دم توڑ رہا تھا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ کرم سے آنسوں بہنے لگے،حضرتِ سَیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کیا ؟ ارشاد فرمایا: یہ جذبۂ تَرَحُّم( رحمدلی) ہے جو اللہعَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا ہے۔ اور ایک روایت یوں ہے کہ ’’ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہا ڈال دیا‘‘ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔