جبکہ میت نے نوحہ کی رسم کو جاری کیا ہو یا نوحہ کی وصیت کی ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر صرف نوحہ کرنے والے گنہگار ہوں گے میت پر اس کا بوجھ نہ ہوگا ۔ (فیوض الباری، ۵/۹۲)
مدنی گلدستہ
’’صبرِ جمیل‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) کسی قریبی عزیز کے فوت ہونے پر آنکھوں سے آنسوؤں کا نکل آنا یا زبان سے ایسے کلمات کا نکل جانا جن سے رَنْج و اَلَم کا اظہار ہو یہ منع نہیں۔
(2) کسی عزیز کے آخری وقت میں اس کی جدائی پر غم کا اظہار کرنا جائز ہے ۔
(3) میت کے ان اوصاف کا ذکر کرنا جائز ہے جو اس میں موجود ہوں۔
(4) حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے وہ کلمات نوحہ نہیں تھے بلکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فِراق میں شدید غم کا اظہار تھا۔
(5) کسی کے مرنے پر اس کے ایسے اوصاف بیان کرنا جو اس میں نہیں تھے یا ایسے کلمات بولنا جو اللہ سے شکایت پر مبنی ہوں یہ ناجائز ہے۔
(6) نوحہ یعنی میت کے اوصاف مُبالَغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا جس کو بیَن کہتے ہیں بِا لْاِجْماع حرام ہے۔ ( بہار شریعت ،۱/۸۵۴، حصہ۴ )
(7) اگر کسی شخص نے نوحہ کی رسم جاری کی تھی یا وہ نوحہ کی وصیت کرکے مرا تو نوحہ کرنے سے میت کو بھی عذاب ہوگا ورنہ صرف نوحہ کرنے والوں پر ہی عذاب ہوگا ان کے نوحہ کرنے سے میت کو عذاب نہیں ہوگا۔
یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صَدقے بڑی سے بڑی مصیبت پر بھی صبر کرنے کی توفیق عطا فرما اور اُس صبر پر اجرِ عظیم عطا فرما ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم