Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
331 - 627
مجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نامعَبْدُ اللہ رکھا۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ )
	حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ فرماتے ہیں : ایک انصاری نے کہا کہ میں نے عَبْدُ اللہکی اولاد سے نو لڑکے دیکھے  جوسب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب من لم یظہر حزنہ عند المصیبۃ، ۱/۴۴۰، حدیث:۱۳۰۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ 
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رونا صبر کے خلاف نہیں 
	 بعض بزرگ فرماتے ہیں :صبرِ جمیل یہ ہے کہ مصیبت زَد ہ شخص کسی سے پہچانا نہ جائے، اگر کوئی قریبی عزیز مر جائے تو اس کی وجہ سے باکل ہی دل چھوڑ کر نہ بیٹھ جائے ، ہاں شدت ِغم سے آنسوبہہ نکلیں اور بندہ اُداس ہوجائے تو یہ صبر کے خلاف نہیں کیونکہ یہ باتیں بشری تقاضوں میں سے ہیں جو موت تک انسان سے علیحدہ نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ کوئی شخص جب بخوشی اپنے زخم کا علاج کرائے تو اگرچہ اسے درد محسوس ہوتا ہے ،کبھی شدت درد سے آنسو بھی نکل جاتے ہیں توآنسو نکلنا اس کی طرف سے جَزَع وفَزَع( رونا پیٹنا) نہیں (بلکہ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے ہے)۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۱)
میت پر نوحہ کرنا ناجائز ہے
	 میت پر نوحہ کرنا یعنی چیخنا چلّانا کپڑے پھاڑنا بال نوچنا سینہ پیٹنا اور ناشکری کے کلمات زبان پر لانا ممنوع و ناجائز ہے اور وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ میت کو نوحہ کرنے سے عذاب ہوتا ہے تو یہ اس صورت میں عذاب ہوگا جبکہ