Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
330 - 627
مصائب پر صبر کیسے کریں ؟
	حضرتِ سَیِّدُناامام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی  ایک سوال قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگرصبر سے مراد یہ ہے کہ کسی مصیبت پر بندہ اپنے دل میں کراہت محسوس نہ کرے ، یہ بات تو بندے کے اختیار میں نہیں پھراسکا شمار صابرین میں کیسے ہو گا؟ 
	 جواب :بندہ صابرین کے مرتبہ (درجہ) سے اس وقت نکلتا ہے جب وہ بے جاروئے پیٹے ،اپنا گریبان پھاڑے ، چہرے پر تھپڑ مارے ، بہت زیادہ شکوہ وشکایت کرکے لوگوں پر اپنی مصیبت کا اظہار کرے ، معمول کا لباس وکھانا وغیرہ ترک کرکے ایسا انداز اختیار کرے کہ لوگ اسے مصیبت زدہ جانیں تو ایسا کرنے والا صابرین کے مقام سے خارج ہوجائے گا کیونکہ یہ اُمور بندے کے اختیار میں ہیں ان میں وہ مجبور نہیں ہے ،لہٰذاایسی باتوں سے بچے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر رضا کا اظہار کرے، نیز اپنے معمول کے کام برقرار رکھے اور یہ عقیدہ رکھے کہ یہ چیز اس کے پاس امانت تھی، پس واپس لے لی گئی۔(احیاء العلوم ، ۴/۹۰)
 صبر ہو تو ایسا ہو
	 حضرتِ سَیِّدُناانَس رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضرتِ  ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی والدہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہاکہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہمبستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت  حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہمبستری کی ؟عرض کی: ہاں ! آپ نے دعا مانگی: اے اللہعَزَّوَجَلَّ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں حضرتِ  ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے