Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
329 - 627
نے بیماریوں اور وفات کی تکلیفوں کو حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اس لیے زیادہ کیا کہ قیامت تک آپ کے مصیبت زدہ امتی آ پ کے ان حالات کو سن کر تسلی پائیں۔ مبارک ہیں وہ رسول جن کی بیماری بھی تبلیغ اور امت کے لیے ذریعہ رحمت ہے ۔ 							(مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۴۱۱)
آپ ہم سے بڑھ کر ہم پر مہربان			ہم کریں جرم آپ رحمت کیجئے
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا				یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
آخری وقت میں بھی صبر کی تلقین 
	امامُ الصَّابِرین، سَیِّدُ الشَّاکِرِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے آخری وقت میں بھی حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو صبر کی تلقین فرمائی، جب حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا شدتِ غم کی وجہ سے اپنے دکھ کا اظہار فرما رہی تھیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  لَیْسَ عَلٰی أَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ یعنی آج کے بعد تمہارے بابا کو کبھی تکلیف نہ ہوگی۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اے بیٹی! تیرے باپ پر بس یہ آخری تکلیف ہے۔ اس کے بعد کبھی تکلیف نہ ہوگی۔ کیونکہ اب میں دار التکلیف سے رخصت ہورہا ہوں وہاں جارہا ہوں جہاں راحت ہی راحت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۲۹۰)
	’’ فَتْحُ الْبَارِی شرحِ بخاری‘‘میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کی کیفیت خوب معلوم تھی اسی لئے کہا کہ اے انس ! ا تنی شدید محبت کے باوجود اپنے نبی کو قبر میں اتارنا تم نے کیسے گوارا کر لیا؟ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سَیِّدَہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی یہ بات سن کر ادباً خاموش رہے۔ لیکن زبان حال سے گویا یوں کہہ رہے تھے کہ ہم نے اپنی جانوں پر جبر کر کے یہ سب کچھ کیا ہے ہم بھی خوش نہیں ہیں۔ لیکن حکمِ نبی یہی تھا اس لئے مجبوراً اس پر عمل کرنا پڑا ۔ (فتح الباری ،کتاب المغا زی، باب مرض النبی و وفاتہ ، ۹/۱۲۷، تحت الحدیث:۴۴۶۲)