Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
328 - 627
 ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہے اور ہم تمہاری جدائی میں اے ابراہیم غمزدہ ہیں اسی قبیل (قِسم) سے حضرت سیدہ فاطمہ زہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے یہ کلمات ہیں۔			         (نزھۃ القاری، ۴/ ۸۹۰)
حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا گِریَہ و زاری کرنا نوحہ و بے صبری نہیں 
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ سیدہ کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری بلکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فِراق (جدائی)پر بے چینی ہے جو بذاتِ خود عبادت ہے نوحہ یہ ہے کہ میت کے ایسے اوصاف بیان کئے جاویں جو اس میں نہ ہوں او ر پیٹا جاوے ۔ بے صبری یہ ہے کہ رب تعالی کی شکایت کی جاوے۔ جناب سَیِّدَہ ان دونوں سے محفوظ ہیں۔ ‘‘ 		         (مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۲۹۱)
کیا نزع کے وقت صرف گناہ گاروں کو تکلیف ہوتی ہے؟
	نزع کے عالم میں محبوبانِ خدا کو بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ’’آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قِسم کی بے چینی نہیں ‘‘ ایک حدیث جو کہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں :’’ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ، تو میں حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی کے لیے موت کی سختی کو کبھی ناپسند نہیں کرتی۔‘‘ اس حدیث کی شرح میں عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی  مِرْقَاۃُ الْمِفْاتِیْح میں فرماتے ہیں :’’ یعنی میں یہ گمان کرتی تھی کہ نزع کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن جب میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شدت نزع دیکھی تو میں نے جان لیا کہ موت کی سختی گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ درجات کی بلندی کے لئے بھی ہے۔ اور آسان موت نیکی و مقبولیت کی نشانی نہیں وگرنہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے زیادہ حقدار تھے ۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۲۱تحت الحدیث:۱۵۴۰)
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :’’ خیال رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ