بعد ایسے الفاظ کہناجن سے وہ متصف ہو منع نہیں۔اور ایسے اوصاف بیان کرنا جن سے آدمی متصف نہ ہو وہ منع ہیں۔
(فتح الباری،کتاب المغا زی، باب مرض النبی و وفاتہ، ۹/۱۲۷، تحت الحدیث:۴۴۶۲)
میر ے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں :’’حضرت بتول زہرانے یہ کلمات نہ صَیحہ وفریاد (بلند آواز) کے ساتھ کہے نہ ان میں کوئی غلطی یابے تحقیق وصف بیان فرمایانہ کوئی کلمہ شکایت رب العزۃ وناراضی قضائے الٰہی پردال تھا، لہٰذا اس میں کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ زُرقانی میں ہے: فَقَالَ لَھَا لَاکَرْبٌ عَلٰی اَبِیْکَ بَعْدَالْیَوْمِ وَھٰذَا یَدُلُّ عَلٰی اَنَّھَا لَمْ تَرْفَعْ صَوْتَھَا وَاِلَّانَھَاھَا۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی بیٹی سے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد گرامی کو گھبراہٹ اور کوئی بے چینی نہ ہوگی۔ یہ ارشاد اس پردلالت کرتاہے کہ سیدہ نے اپنی آواز (کلمات مذکورہ کہتے ہوئے)بلندنہ کی تھی ورنہ آپ منع فرمادیتے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ۲۴/۴۸۵)
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :حضرتِ سَیِّدہ فاطمہ زہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جن دردناک الفاظ میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُفَارَقَت (جدائی) پر اپنے غم کا اظہار فرمایا یہ شدتِ غم میں ، حالتِ اضطرار میں ان کے دَہَنِ پاک سے نکلا، یہ نِیَاحتِ مَمْنُوعَہ (ایسا رونا جو کہ شرعا منع ہے) نہیں جو اپنے قَصْد و اختیار سے چیخ چیخ کر آواز بنابنا کر کیا جاتا ہے جس میں جھوٹ بھی ہوتا ہے ، کسی کے فوت ہونے پر حالتِ اضطرار میں آنسو نکل آئیں یا کچھ کلمات ایسے نکل آئیں جن سے اندرونی غم و اَندَوہ کا اظہار ہو یہ ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے ، جیسا کہ (اپنے صاحبزادے) حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم عَلٰی اَبِیْہِ وَعَلَیْہِ السَّلَام کے وِصال پر خود حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے تھے اور یہ فرمایا تھا’’ اَلْعَیْنُ تَدْمَعُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّا مَایُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی وَ اَنَا بِفِرَاقِکَ لَمَحْزُوْنُوْنَ یَا اِبْرَاھِیْم ‘‘آنکھ سے آنسو جاری ہے مگر