Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
326 - 627
حدیث نمبر:28 		موت کے وقت صبر
	عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وَا کَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ لَیْسَ عَلٰی أَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا أَبَتَاہُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَا أَبَتَاہُ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاہُ یَا أَبَتَاہُ إِلٰی جِبْرِیلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا یَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوْا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ۔ (بخاری، کتاب المغازی،  باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، ۳/۱۶۰، حدیث:۴۴۶۲)
	 ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ جب نبیِّ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مرض سے گرانی ہوئی ،بے چینی نے غلبہ کیا تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بولیں : ہائے! اباجان کی بے چینی۔ سیِّد عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قِسم کی بے چینی نہیں ، پھر جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انتقال فرمایاتو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بولیں :اے میرے ابا جان! آپ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بلانے پرتشریف لے گئے ۔اے باپ میرے وہ کہ جنتُ الفردوس جن کا ٹھکاناہے ،اے باپ میرے کہ جن کے انتقال کی مصیبت ہم جبریل سے بیان کرتے ہیں۔ پھر جب آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبرِاطہر میں اُتار دئیے گئے۔ تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے فرمایا : اے انس! تمہارے دلوں نے کیونکرگوارا کیا کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَقدس کو خاک میں پِنہاں کرو ۔ 
	عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتح الباری میں فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جوکہا: ہائے! اباجان کی بے چینی ، یہ آہستہ آوازمیں کہاتھا اگرآپ بلندآواز سے کہتیں تو نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو منع فرمادیتے ۔ مزید فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پا ک سے یہ فا ئدہ حا صل ہوا کہ جس انداز میں حضرتِ سَیِّدَتُنافاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اظہار کیا بس اس طرح ہی درد و غم کا اظہار کرناکسی شخص کی موت کی شدت کے وقت جائز ہے اس میں بھی شرط یہ ہے کہ نوحہ کے اندازمیں درد و غم کا اظہار نہ ہو۔اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ آدمی کے مرنے کے