Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
325 - 627
(2)جس کا رتبہ جتنا بلند ہوتا ہے اس پر اتنے ہی زیادہ مصائب آتے ہیں۔
(3) آزمائشوں کے باوجود اللہعَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کرتے رہنا انبیائے کِرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کی سنتِ مبارکہ ہے۔
  (4)دنیاوی مال واسباب کی زیادتی جنت میں دیر سے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔
(5)سچا مُحِبّ وہی ہے جو محبوب کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش پر صبرکرے ۔
(6) جب مصیبت پہنچے تو اس  پر صبر کرنے کے ثواب کو یاد کر لینا چاہیے اس طرح صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ 
(7) کامل صبر کرنے والا وہ ہے جو اپنی حالت سے یہ محسوس نہ ہونے دے کہ وہ مصائب میں مبتلا ہے ۔
(8)جودنیا میں بینائی چھِن جانے پر صبر کرے تو بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے دیدار کی عظیم دولت سے نوازے گا۔
	یا اللہ عَزَّوَجَلَّہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں آزمائش میں مبتلا نہ فرما کیونکہ ہم تیرے ناتواں اور کمزور بندے ہیں اور اگر کبھی ہم پر آزمائش آجائے تو ہمیں اپنے پیارے نبی حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صبر کے صَدْقے صبر کرنے کی توفیق عطا فرما!
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم